لاہور(ویب ڈیسک ) آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دیں گے اور خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب کو صاف طور پر یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ قانون کی خلاف ورزی پر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ 27 ستمبر کو کسی کو ٹوڑ پھوٹ کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر کسی نے احتجاج کرنا ہے تو متعلقہ ڈی سی سے اجازت لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ کسی نے احتجاج کے لیے درخواست دی ہو۔آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ کسی کے خلاف امتیازی کارروائی نہیں ہو گی۔ پولیس کی خود احتسابی کا بڑا اچھا نظام ہے۔ گھروں میں توڑ پھوڑ کا الزام درست نہیں ہے۔ کسی کو اگر گھروں میں توڑ پھوڑ کی شکایت ہے تو ہمارے شکایت سیل سے رجوع کرے۔قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ میں چوہنگ پولیس اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب آپ نے ایف آئی آر دیکھی ہے؟ یہ ایف آئی آر تو عینک لگا کر بھی نہیں پڑھی جارہی ۔ کم از کم ایک فونٹ رکھیں۔آئی جی عدالت کو بتایا کہ ہم نے اس حوالے سے پی آئی ٹی بی سے معاونت حاصل کی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایف آئی آر پڑھیں گے یا اسے سمجھیں گے؟۔ جب 3 صفحوں کا کام ایک صفحے پر ہوگا تو فونٹ تو چھوٹا ہوگا ۔ کہتے ہیں ہم پیپر بچا رہے ہیں۔ پیپر بچاتے بچاتے ہماری آنکھیں ضائع ہوگئیں۔عدالت نے آئی جی کو پورے پنجاب میں ایک طرز کے فونٹ ایف آئی آر کے اندراج کی ہدایت کردی اور ستمبر کو عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ اتنا بڑا کام نہیں ہے۔ ایک دو روز میں مکمل ہونا چاہیے ۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے






