حیدرآباد(ویب ڈیسک ) سندھ میں 24 فیصد سے زائد لڑکیوں کی شادی 18سال سے قبل ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ 7.5 فیصد کی شادی 15سال کی عمر سے پہلے کردی گئی تھی۔ دوسری جانب مردوں میں 18سال کی عمر سے پہلے شادی کی شرح 8.5فیصد اور 15سال سے پہلے 2.2فیصد تھی۔یہ اعداد و شمار نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کی یونیسف کے تعاون سے تیار کردہ ”دی اسٹیٹ آف چلڈرن اِن پاکستان 2024“ رپورٹ میں شامل ہیں۔ یونیسف کی یہ تحقیق پنجاب‘ سندھ‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف سماجی پس منظر رکھنے والے افراد کے انٹرویوز اور گروپ مباحثوں پر مبنی ہے، جس میں 400 سے زائد مردوں‘ خواتین‘ لڑکوں‘ لڑکیوں اور متعلقہ افراد سے معلومات حاصل کی گئیں۔ رپورٹ کےمطابق کم عمری کی شادی کا مسئلہ محض خاندانی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے غربت‘ تعلیم کے محدود مواقع‘ معاشرتی توقعات اور صنفی عدم مساوات جیسے عوامل بھی کارفرما ہیں۔رپورٹ کے مطابق سندھ میں 20 سے 24 سال کی عمر کی 24.7 فیصد خواتین کی شادی 18 سال سے پہلے ہوئی جبکہ 7.5 فیصد کی شادی 15 سال کی عمر سے پہلے کردی گئی تھی‘یہ اعدادوشمار سندھ کے ملٹی پل انڈیکیٹر کلسٹر سروے 19-2018ء پر مبنی ہیں،‘ اس لئےانہیں 2026ءکی موجودہ شرح نہیں سمجھنا چاہئے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے






