کراچی(ویب ڈیسک) گلشن حدید سے تاوان کے لیے اغوا کیے جانے والے 23 سالہ نوجوان زین العابدین کا قاتل اس کا اپنا کزن نکلا جسے پولیس نے گرفتار کرلیا۔ زین العابدین کو 2 روز قبل اغوا کیا گیا تھا، ملزمان نے مغوی کی رہائی کے لیے 7 لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا اور ایک ہاتھ کاٹ کر گھر بھجوایا تھا۔مقتول کے والد کے مطابق نامعلوم افراد ایک شاپنگ بیگ میں زین العابدین کا ہاتھ، شناختی کارڈ ، سم کارڈ اور ایک کی پیڈ موبائل فون میں رکھ کر گھر پہنچا گئے تھے۔
مقتول کے والد نے بتایا کہ ملزمان نے اسی نمبر پر کال کرکے کسی پڑھے لکھے شخص سے بات کرانے کا مطالبہ کیا جس پر میں نے اپنے بھانجے فیصل سے بات کرائی، ملزمان نے 7 لاکھ روپے تاوان طلب کیا تاہم 5 لاکھ روپے میں معاملہ طے پایا، مقتول کا کزن فیصل ہی اغوا کاروں کو رقم دینے گیا تھا۔دوسری جانب ایس ایس پی ملیر خالق پیرزادہ کے مطابق پولیس نے شک کی بنیاد پر فیصل سے پوچھ گچھ کی تو اس نے قتل کا اعتراف کرلیا، ملزم کی نشاندہی پر مقتول کی لاش اسٹیل مل کے قریب سے برآمد کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے بتایا مقتول زین العابدین کے پاس اس کی کچھ نازیبا ویڈیوز تھیں جس کے باعث دونوں کے درمیان تلخیاں تھیں، ملزم فیصل کے ایک ساتھی کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمان کے بیانات کی ڈیجیٹل شواہد کی روشنی میں تصدیق کی جائے گی، مقتول زین العابدین بیرون ملک سے کراچی آیا ہوا تھا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے






