اسلام آباد (ویب ڈیسک ) گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی مبینہ خودکشی کے واقعے پر پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نے لائبہ کے بیرون ملک تعلیم کی خواہش سے ناجائزہ فائدہ اٹھایا، طالبہ نے بیرون ملک تعلیم کی خواہش میں ملزم کو مختلف مواقع پربھاری رقم دی، پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے ملزم کو ادائیگیوں کا بینک ریکارڈ بھی حاصل کرلیاہے جب کہ ملزم سے برآمد موبائل فون فارنزک تحقیقات کے لیے لیبارٹری بھجوادیا گیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لائبہ کا رابطہ ایک جاب انٹرویو کے دوران ملزم نعمان سے ہوا تھا جس نے طالبہ کو بیرون ملک داخلہ کرانے میں مدد کی آفرکی، رقم وصولی کے باوجود کام نہ ہونے پر والدین نےکاغذات چیک کرائےتو جعلی نکلے۔پولیس کے مطابق رقم واپس کرنے کے مطالبے پر ملزم نے ساتھی خواتین کا سہارا بھی لیا، ملزم ساتھی لڑکی کے ذریعے یا خود لڑکی بن کرایس ایم ایس کےذریعےدھوکا دیتا رہا، ملزم نعمان اپنی فیملی سے الگ کرائےکےکمرے میں رہائش پذیرتھا۔پولیس نے کیس کی تفتشس آگے بڑھانےکے لیے سیل ایف آئی آر کھول دی:دوسری جانب ایف آئی آر لائبہ اعجاز کے والد کی مدیت میں 322/34 کے تحت درج کی گئی، پولیس نے لائبہ اعجاز کے والد کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا۔والد نے بیان دیا کہ میری بیٹی کی نعمان نامی ایجنٹ سے بلیو ایریا میں ملاقات ہوئی، اس نےخود کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ افسر بتایا، نعمان نےاسٹڈی ویزے پر امریکا بھجوانےکا جھانسہ دیا، ملزم نعمان نے امریکا بھجوانے کے لیے 93 لاکھ روپے طےکیے۔والد کے مطابق ملزم کو 21 لاکھ روپے جی 10 میں نقد ادا کیے، 29 لاکھ میری بیٹی کے اکاؤنٹ سےملزم نعمان کو ٹرانسفر کیے،ملزم نےبینک اسٹیٹمنٹ کے لیے 20ہزار ڈالراکاؤنٹ میں بھجوانےکی جعلی رسیدیں دیں۔والد نے مزید بتایا کہن ملزم کےساتھ فراڈ میں عائزہ نامی لڑکی بھی شامل تھی، عائزہ میری بیٹی سے رابطہ کرکے رقم کا مطالبہ کرتی تھی،ملزم نے ہمارا فون سننا بھی چھوڑ دیا تھا،5، 6 دن میری بیٹی اسی ذہنی پریشانی میں مبتلا رہی۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے






