کینیڈا میں رہتے ہوئے مختلف تقریبات اور شادیوں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ غیر مسلم خاندانوں کی کئی شادیاں ایسی دیکھی ہیں جہاں تقریب نہایت سادہ ہوتی ہے۔ دلہن سفید لباس میں، ہلکی سی جیولری کے ساتھ، چند قریبی عزیزوں اور دوستوں کی موجودگی میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتی ہے۔ نہ کئی دنوں کی تقریبات، نہ لباس اور زیورات کی نمائش، نہ ایک دوسرے سے بڑھ کر خرچ کرنے کی دوڑ۔ خوشی اپنی جگہ ہوتی ہے، مگر دکھاوا اس خوشی پر حاوی نہیں ہوتا۔ایسے مواقع پر ایک سوال ذہن میں ضرور آتا ہے جس سادگی کو ہم دوسرے معاشروں میں دیکھ کر پسند کرتے ہیں، کیا ہم اسے اپنے معاشرے میں اختیار نہیں کرسکتے؟خاص طور پر ہم تو اس دین کے پیروکار ہیں جس نے سادگی، اعتدال اور فضول خرچی سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔ پھر ہماری شادیوں میں خوشی سے زیادہ نمود و نمائش کیوں نظر آنے لگی؟ مایوں، مہندی، ڈھولکی، بارات اور ولیمے تک تقریبات کا ایک ایسا سلسلہ بن گیا ہے جس میں بعض خاندان اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں بات صرف ایک خاندان کے خرچ کرنے کی نہیں۔ جب ایک شادی میں بے تحاشا نمود و نمائش ہوتی ہے تو اس کا اثر دیکھنے والوں پر بھی پڑتا ہے۔ دوسرا خاندان سوچتا ہے کہ ہمیں بھی ایسی ہی شادی کرنی ہے، ورنہ لوگ کیا کہیں گے پھر تیسرا خاندان بھی اسی دوڑ میں شامل ہوجاتا ہے اور یوں ایک رسم، روایت سے بڑھ کر معاشرتی دباؤ بن جاتی ہے ہمیں شاید دوسروں سے سادگی سیکھنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ سوال تو یہ ہے کہ اگر سادگی کی مثال ہمیں اپنے ہی دینی اصولوں میں ملتی ہے تو پھر ہم اس مثال کو اپنی شادیوں میں پیش کرنے سے کیوں ہچکچاتے ہیں ہم اکثر مغربی معاشرے کی بعض برائیوں پر تنقید کرتے ہیں، اور جہاں کوئی غلط چیز نظر آئے وہاں اس کی نشاندہی بھی ہونی چاہیے۔ لیکن کیا انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ جہاں کوئی اچھی بات نظر آئے، وہاں اسے تسلیم بھی کیا جائے؟اگر ہم ان معاشروں میں سادگی، وقت کی پابندی، قانون کی پاسداری ،ایمانداری یا کسی اچھی معاشرتی روایت کو دیکھیں تو اسے صرف اس لیے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہماری ثقافت سے باہر ہے۔ اچھی بات اچھی ہوتی ہے، چاہے وہ ہمیں کہیں سے بھی سیکھنے کو ملے۔اور شاید شادی بیاہ کی سادگی بھی ہمارے لیے ایسا ہی ایک سبق ہے ہم دوسروں کی زندگیوں کی چمک دمک دیکھ کر متاثر ہونے کے بجائے ان کی اچھی عادات سے سبق لیں اور اپنی روایات میں موجود سادگی کو بھی زندہ کریں۔آخر ہم مغرب کی ہر چیز اپنانے کے لیے نہیں، لیکن اچھی چیز سیکھنے کے لیے ضرور آزاد ہیں۔ اور اگر ہم اپنے ہی معاشرے کو غیر ضروری رسموں، نمود و نمائش اور مالی بوجھ سے بچا سکتے ہیں تو اس سے بہتر سبق اور کیا ہوگا ہم مغرب کی ہر اچھی بات اپنانے کے لیے نہیں، مگر اچھی بات جہاں سے ملے اسے سیکھنے کے لیے ضرور تیار ہونا چاہیے اب دوسرا رخ ہم اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں جو دیکھا دیکھی کے مرض میں اپنی چادر سے زیادہ پیر نکالے رکھتے ہیں ،ایک طرف مہنگائی اور معاشی بحران نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے، لوگ دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج اور گھر کے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہیں، اور بعض تو زندگی سے ہی بیزار دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف ایک ایسا کڑوا اور سنگین سچ بھی ہے جس کا سامنا آج ہمارے معاشرے کے ہر دوسرے خاندان کو کرنا پڑ رہا ہے۔یہ سچ ہے شادی بیاہ کی وہ رسومات، بے جا اخراجات، دکھاوا اور فضول خرچی جو خوشی کے ایک موقع کو کئی خاندانوں کے لیے مالی بوجھ اور ذہنی اذیت بنا دیتی ہے۔شادی جو دو انسانوں کے نئے سفر کا آغاز ہونی چاہیے، ہمارے ہاں اکثر ایک ایسے امتحان میں بدل جاتی ہے جس میں محبت سے زیادہ جیب دیکھی جاتی ہے،لباس کیسا ہے، ہال کتنا شاندار ہے، کھانے میں کتنے پکوان ہیں، جہیز کتنا دیا گیا، بارات کتنی بڑی ہے اور شادی میں کتنے لوگوں کو بلایا گیا گویا خوشی کا معیار بھی اب انسان کی استطاعت نہیں بلکہ اس کی نمائش بن چکا ہے۔سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس دوڑ میں وہ خاندان بھی شامل ہو جاتے ہیں جو حقیقتاً اخراجات کے متحمل نہیں ہو تی کسی نے قرض لے لیا، کسی نے جمع پونجی ختم کردی، کسی نے زیور بیچ دیا اور کسی نے برسوں کی کمائی چند گھنٹوں کی تقریب پر خرچ کردی، صرف اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں یہ شاید ہمارے معاشرے کا وہ جملہ ہے جس نے نہ جانے کتنے خاندانوں کو اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلانے پر مجبور کیا ہے ،ایک متوسط طبقے کا باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے برسوں پیسہ جمع کرتا ہے بیٹی کی خواہش سے زیادہ اسے معاشرے کی توقعات کا خیال رہتا ہے۔ اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر شادی سادگی سے کردی تو رشتہ دار کیا کہیں گے، محلے والے کیا کہیں گے، سسرال والے کیا سوچیں گے؟اور یوں ایک باپ اپنی بیٹی کو خوشی سے رخصت کرنے کے بجائے قرضوں کی ایک ایسی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے جس سے نکلنے میں اسے کئی سال لگ سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ہم نے شادی کو خوشی کا موقع بنایا ہے یا معاشرتی نمائش کا مقابلہ؟جس معاشرے میں ایک طرف لوگ مہنگائی کے ہاتھوں بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہوں، دوسری طرف چند گھنٹوں کی تقریب پر لاکھوں روپے خرچ کرنا آخر کس معاشرتی کامیابی کی علامت ہے؟ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ شادی کی خوشی کھانے کی میز پر رکھے پکوانوں کی تعداد سے بڑھتی ہے یا دو خاندانوں کے درمیان محبت، احترام اور اعتماد سے؟رسم و رواج اپنی جگہ خوبصورت ہیں، لیکن جب رسم ضرورت سے بڑھ کر بوجھ بن جائے تو اسے روایت نہیں بلکہ معاشرتی مسئلہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم ‘‘لوگ کیا کہیں گے’’ کے بجائے یہ سوچنا شروع کریں کہ ہماری استطاعت کیا ہے؟سادگی کسی کی غربت نہیں، بلکہ ایک سمجھ دار معاشرے کی پہچان ہوسکتی ہے۔ شادی اگر قرض لے کر کرنی پڑے تو شاید ہمیں شادی کی شان نہیں، اپنی سوچ کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اصل شادی سے پہلے ہی فضول رسموں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ مایوں، مہندی، ڈھولکی اور نہ جانے کتنی ایسی تقریبات جنہیں ہم نے خوشی کا لازمی حصہ سمجھ لیا ہے۔ ہر تقریب کے لیے الگ لباس، الگ زیور، الگ میک اپ، الگ سجاوٹ، الگ کھانا اور پھر تصویروں اور ویڈیوز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔سوال یہ ہے کہ ان چند گھنٹوں کی تقریبات پر خرچ ہونے والی خطیر رقم اگر کسی ضرورت مند خاندان کی مدد پر خرچ کردی جائے تو کتنے گھروں میں خوشی آسکتی ہے؟جس رقم سے ایک خاندان صرف ایک دن کی مہندی کی تقریب سجانے پر خرچ کر دیتا ہے، شاید اسی رقم سے کئی مستحق لڑکیوں کی شادی کے بنیاد یا اخراجات پورے کیے جاسکتے ہیں کسی غریب باپ کی برسوں کی پریشانی ختم ہوسکتی ہے، کسی بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوسکتے ہیں اور کسی گھر میں وہ خوشی آسکتی ہے جس کا انتظار برسوں سے کیا جارہا ہولیکن ہم نے خوشی کا معیار بھی عجیب بنا لیا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے سے زیادہ دلچسپی ہے کہ ہماری تقریب کتنی شاندار تھی، لوگوں نے ہماری تعریف کتنی کی اور سوشل میڈیا پر ہماری تصویروں کو کتنے لائکس ملے۔کبھی کبھی دل میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر ہماری خوشی کسی
دوسرے کے دکھ کو کم نہیں کرسکتی تو پھر اس خوشی کی اصل معنویت کیا ہے ور پھر آتا ہے وہ مشہور جملہ جس نے نہ جانے کتنے خاندانوں کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور کیا ہے: ‘‘لوگ کیا کہیں گے؟’’کسی نے کہا شادی سادہ کرلیں، جواب ملا: لوگ کیا کہیں گے؟ گھر میں آخری بیٹے یا بیٹی کی شادی ہو تو جیسے فضول خرچی کا باقاعدہ لائسنس مل جاتا ہے،اب تو آخری شادی ہے، دھوم دھام سے کریں گے گویا آخری اولاد کی شادی سادگی سے کرنا خاندان کی عزت کے خلاف ہو، اور اس موقع پر اپنی جمع پونجی خرچ کر دینا، قرض لینا اور برسوں کی بچت چند گھنٹوں میں لٹا دینا کامیابی کی علامت ہو!شاید ہمیں ایک دن یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ شادی اپنے بچوں کی خوشی کے لیے کرنی ہے یا ‘‘لوگ کیا کہیں گے’’ کے خوف سیافسوس کا مقام تو یہ ہے کہ کبھی کبھی جن شادیوں پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، جن میں کئی کئی دن دھوم دھام رہتی ہے، مہندی کے الگ جشن، مایوں کی الگ تقریب اور شادی کے دن الگ شان و شوکت ہوتی ہے، وہی رشتے کچھ ہی عرصے بعد اختلافات کی نذر ہوجاتے ہیں جس شادی کے لیے خاندان نے برسوں کی جمع پونجی خرچ کی، قرضے لیے اور یہ سوچ کر ہر رسم پوری کی کہ ‘‘لوگ کیا کہیں گے’’، وہاں چند ہی عرصے بعد یہ سوال کھڑا ہوجاتا ہے کہ ‘‘رشتہ کیوں نہیں چل رہا؟’’ شاید ہم نے شادی کی تیاری میں لباس، زیور، کھانے، سجاوٹ اور تصویروں پر تو بہت توجہ دی، مگر دو انسانوں کو زندگی بھر ساتھ چلنے کے لیے جس سمجھ، برداشت، احترام اور ذمہ داری کی ضرورت ہوتی ہے، اس پر اتنی توجہ نہیں دی آخر شادی کی کامیابی اس بات سے تو طے نہیں ہونی چاہیے کہ مہندی کتنی شاندار تھی، کھانے میں کتنی ڈشیں تھیں یا بارات کتنی بڑی تھی۔ اصل کامیابی تو اس وقت ہے جب یہی دو انسان برسوں بعد بھی ایک دوسرے کے ساتھ عزت، محبت اور اعتماد سے کھڑے ہوں۔شادی چند گھنٹوں کی تقریب نہیں، پوری زندگی کا رشتہ ہے۔ افسوس کہ ہم نے تقریب کو بہت مہنگا اور رشتے کو بہت سستا کر دیا ہے اگر شادی بیاہ میں سادگی اختیار کی جائے تو اس کے اثرات صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے معاشرے پر پڑیں گے۔ معاشرہ دیکھا دیکھی سے بھی بنتا ہے اور بگڑتا بھی ہے۔ جب ایک خاندان لاکھوں روپے خرچ کرکے شادی کی نمائش کرتا ہے تو دوسرا خاندان بھی اپنی اس نمود و نمائش کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور غریب طبقے پر پڑتا ہے۔ وہ ایک شاندار شادی دیکھ کر اپنے محدود وسائل کو دیکھتا ہے تو بعض اوقات احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتا ہے۔ والدین سوچتے ہیں کہ ہماری بیٹی کی شادی بھی ایسی ہی ہونی چاہیے، چاہے اس کے لیے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے یوں خوشی کا ایک موقع معاشرتی دباؤ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
بد اچھا بدنام برا نام بڑا درشن چھوٹے اس طرح کے کئی محاورے اور مثالیں نام پر پائی جاتی ہیں ۔ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا،آجکل فی زمانہ نام میں کچھ نہیں رکھا دیکھا جائے تو اگر نام کے ساتھ بدلگ جائے تو اس کے لئے دولت ،عزت ،شہرت کے دروازے کھل...
کینیڈا کے موسم کا کوئی بھروسا نہیں کہتے ہیں یہاں سال کے چھ موسم ہوتے ہیں، جن میں تین وہ ہیں جن کا کوئی بھروسا نہیں! یہاں موسم کی پیش گوئی دیکھ کر گھر سے نکلنا بھی ایک طرح کا امتحان ہے۔ صبح سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو تو آدمی سوچتا...
ہم امریکہ ،کینیڈا ، یورپ میں دیکھتے ہیں کہ (Senior Citizens) سینئر شہریوں کو بیکار یا معاشرے پر بوجھ نہیں سمجھا جاتا۔ شاپنگ مال ہوں، بڑے اسٹور ہوں یا سپر مارکیٹوں کی کیشئر جابز، ہر جگہ بڑی عمر کے مرد اور خواتین کام کرتے دکھائی دیتے ہیں بعض خواتین تو ایئرلائنز میں بھی ائیرہوسٹس کے...
کینیڈا اور امریکہ کا تعلق ساس بہو والا ہوگیا ہے ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جنگل کی آگ کا ساس بہو سے کیا تعلق؟ مگر عالمی سیاست پر نظر ڈالیں تو کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ بعض ممالک کے تعلقات بھی ہمارے معاشرے کے ساس بہو کے رشتے سے ملتے جلتے ہیں۔ بہو...