بھارتی سنیما کے معروف اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی فلمی صنعت میں سوگ کی فضا پھیل گئی۔ تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط فنی سفر میں نانا پاٹیکر نے ولن، پولیس افسر، فوجی، گینگسٹر، سیاست دان، باپ اور عام آدمی سمیت مختلف کردار ادا کیے اور ہر کردار کو اپنی منفرد آواز، مکالموں کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات اور حقیقت پسندانہ اداکاری سے یادگار بنا دیا۔ تاہم ان کی موت کے حالات نے ان کے مداحوں کو خاص طور پر افسردہ کردیا، کیونکہ زندگی کے آخری لمحات میں وہ اپنے گھر میں اکیلے تھے اور طبیعت بگڑنے کے بعد انہوں نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر گوا میں اپنی رہائش گاہ پر موجود تھے جب رات تقریباً ڈھائی بجے انہیں طبیعت میں خرابی محسوس ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک قریبی دوست کو پیغام بھیجا اور اپنی تکلیف سے آگاہ کیا، تاہم دوست نے یہ پیغام تقریباً 4 بجے دیکھا۔ اطلاع ملتے ہی وہ طبی امدادی ٹیم کے ہمراہ نانا پاٹیکر کی رہائش گاہ پہنچا، لیکن اس وقت تک اداکار کی حالت انتہائی خراب ہوچکی تھی اور وہ بے ہوشی کی کیفیت میں جاچکے تھے۔
طبی عملے نے موقع پر انہیں طبی امداد دینے کی کوشش کی اور بعد ازاں اسپتال منتقل کیا۔ رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر کو تقریباً 4 بج کر 20 منٹ پر اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک سی پی آر اور دیگر ہنگامی طبی اقدامات کے ذریعے ان کی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے اور تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔
ان کی موت کے حوالے سے کارڈیک اریسٹ کو بنیادی وجہ بتایا گیا ہے، تاہم ان کے آخری لمحات سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات نے ایک اہم سوال ضرور پیدا کیا کہ طبیعت کی شدید خرابی کے وقت وہ اپنے کسی قریبی رشتہ دار کے بجائے دوست سے کیوں رابطہ کررہے تھے۔ نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر پونے میں تھے جبکہ ان کی اہلیہ سے کئی برس قبل علیحدگی ہوچکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے آخری لمحات میں خاندان کا کوئی فرد ان کے ساتھ موجود نہیں تھا۔
تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اگر خاندان کا کوئی فرد ان کے ساتھ موجود ہوتا تو ان کی جان ضرور بچ جاتی، کیونکہ کارڈیک اریسٹ بعض اوقات انتہائی تیزی سے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بروقت طبی امداد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نانا پاٹیکر کے معاملے میں بھی طبیعت خراب ہونے اور طبی امداد ملنے کے درمیان گزرنے والے وقت نے ان کے آخری لمحات کو مزید تشویش ناک بنا دیا تھا۔
نانا پاٹیکر کی موت صرف ایک معروف اداکار کے انتقال کی خبر نہیں بلکہ بھارتی سنیما کے ایک ایسے فنکار کے سفر کا اختتام بھی ہے جس نے روایتی فلمی ہیرو بنے بغیر اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا اور وہ یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹرا کے علاقے مروڈ جنجیرا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ابتدا ہی سے تھیٹر سے رہا اور یہی تھیٹر ان کی اداکاری کی بنیادی تربیت کا اہم ذریعہ بنا۔
1978 میں فلم ’’گامن‘‘ سے بڑے پردے پر قدم رکھنے والے نانا پاٹیکر کو ابتدائی دور میں مسلسل جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کی آواز، مکالمہ ادا کرنے کے انداز اور کردار کے اندر اتر جانے کی صلاحیت نے انہیں رفتہ رفتہ نمایاں کردیا۔ وہ روایتی ہیرو کے انداز اور ظاہری شخصیت کے بجائے کردار کی طاقت پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں جو کردار ملتا، وہ اسے محض ادا نہیں کرتے بلکہ اپنی شخصیت اور اداکاری سے اس کردار کو الگ پہچان دے دیتے۔
1980 کی دہائی میں انہوں نے متعدد فلموں میں کام کیا جبکہ 1988 کی ’’سلام بمبئی!‘‘ نے ان کی شہرت کو مزید وسعت دی۔ تاہم 1989 میں ریلیز ہونے والی ’’پرندہ‘‘ ان کے فنی سفر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ فلم میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا اور انہیں بہترین معاون اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد ان کے لیے بھارتی فلمی صنعت میں بڑے کرداروں کے دروازے مزید کھلتے چلے گئے۔
اس کے بعد نانا پاٹیکر ’’پراہار‘‘، ’’انگار‘‘، ’’ترنگا‘‘ اور ’’راجو بن گیا جینٹلمین‘‘ سمیت متعدد فلموں میں نظر آئے۔ ان فلموں نے انہیں ایک ایسے اداکار کے طور پر منوا دیا جو صرف مکالمے بولنے کے بجائے کردار کی اندرونی کیفیت کو بھی پردے پر منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ غصے میں ہوتے تو ان کے لہجے اور آنکھوں سے غصہ محسوس ہوتا، خاموش ہوتے تو ان کی خاموشی بھی منظر کا حصہ بن جاتی اور جذباتی مناظر میں انہیں طویل مکالموں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
1994 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’کرانتی ویر‘‘ نے نانا پاٹیکر کے کیریئر کو ایک نئی بلندی دی۔ فلم میں ان کے طاقتور کردار اور مکالموں نے انہیں عوام میں غیر معمولی مقبولیت دلائی۔ ان کی اداکاری کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا اور انہیں بہترین اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا۔ یہ وہ مقام تھا جب نانا پاٹیکر بھارتی سنیما کے صف اول کے اداکاروں میں شمار ہونے لگے۔
نانا پاٹیکر کی خاص بات یہ تھی کہ وہ خود کو کسی ایک قسم کے کردار تک محدود نہیں کرتے تھے۔ ’’خاموشی: دی میوزیکل‘‘، ’’اگنی ساکشی‘‘، ’’اب تک چھپن‘‘، ’’اپہارن‘‘ اور ’’راج نیتی‘‘ جیسی فلموں میں انہوں نے مختلف مزاج کے کردار ادا کیے۔ ’’اگنی ساکشی‘‘ میں ان کی اداکاری پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا، جس کے ساتھ وہ تین نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کرنے والے اداکاروں کی صف میں شامل ہوگئے۔
’’اب تک چھپن‘‘ میں پولیس افسر کا کردار بھی ان کے یادگار کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس فلم میں انہوں نے جرم کی دنیا، پولیس کے دباؤ اور ایک ایسے افسر کی ذہنی کیفیت کو پیش کیا جو مسلسل خطرات میں گھرا رہتا ہے۔ نانا پاٹیکر کی اداکاری کی یہی خصوصیت تھی کہ وہ کردار کو صرف ظاہری انداز میں نہیں اپناتے تھے بلکہ اس کے ذہنی اور جذباتی پہلو کو بھی اپنی پرفارمنس کا حصہ بناتے تھے۔
لیکن نانا پاٹیکر کے کیریئر میں ایک ایسا موڑ بھی آیا جب انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ صرف سنجیدہ اور طاقتور کرداروں تک محدود نہیں۔ 2007 کی فلم ’’ویلکم‘‘ میں ’’ادے شیٹی‘‘ کا کردار ان کے کیریئر کے مقبول ترین مزاحیہ کرداروں میں شامل ہوگیا۔ گرج دار آواز، غصے بھرے انداز اور سخت لہجے کو انہوں نے مزاح کا ذریعہ بنا دیا۔ ان کا غصہ دیکھنے والوں کو ہنسانے لگا اور ان کے مکالموں اور چہرے کے
تاثرات نے کردار کو اس قدر مقبول کردیا کہ وہ آج بھی فلم کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔
2015 میں ’’ویلکم بیک‘‘ میں انہوں نے ادے شیٹی کا کردار دوبارہ ادا کیا۔ اس کردار نے نانا پاٹیکر کو نئی نسل کے درمیان بھی مقبول کردیا اور یہ ثابت کیا کہ ایک بڑا اداکار صرف سنجیدہ کرداروں سے نہیں بلکہ کامیڈی میں بھی اپنی شناخت قائم کرسکتا ہے۔
مراٹھی سنیما میں بھی نانا پاٹیکر نے نمایاں کام کیا۔ 2016 کی فلم ’’نٹسمراٹ‘‘ میں ایک ریٹائرڈ تھیٹر اداکار کا کردار ان کے کیریئر کی اہم پرفارمنس میں شمار کیا جاتا ہے۔ فلم میں بڑھتی عمر، خاندان، تنہائی اور ایک فنکار کی زندگی کے مسائل کو جس انداز میں پیش کیا گیا، نانا پاٹیکر نے اس کردار میں غیر معمولی جذباتی گہرائی پیدا کردی۔ ان کی اداکاری نے فلم کے مرکزی کردار کو محض ایک ریٹائرڈ اداکار کے بجائے ایک ایسے انسان میں تبدیل کردیا جس کے دکھ اور تنہائی کو ناظر خود محسوس کرتا ہے۔
نانا پاٹیکر کو ان کے فنی سفر میں تین نیشنل فلم ایوارڈز کے علاوہ چار فلم فیئر ایوارڈز اور دیگر قومی و علاقائی اعزازات بھی ملے۔ بھارتی حکومت نے 2013 میں فنون اور سنیما کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں پدم شری سے نوازا۔ تاہم ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے فلمی دنیا میں اپنی ایسی شناخت بنائی جو صرف ایوارڈز یا کامیاب فلموں تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کے کردار لوگوں کی یادوں کا حصہ بن گئے۔
اداکاری کے ساتھ نانا پاٹیکر سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ انہوں نے اداکار مکرند اناسپورے کے ساتھ مل کر ’’نام فاؤنڈیشن‘‘ کے قیام میں کردار ادا کیا، جو خاص طور پر مہاراشٹرا کے خشک سالی سے متاثرہ کسانوں اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کے لیے کام کرتی رہی۔ اس طرح ان کی شخصیت کا ایک پہلو پردے سے باہر بھی عام لوگوں کے مسائل سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔
تقریباً پانچ دہائیوں کے اس فنی سفر میں نانا پاٹیکر نے ولن سے لے کر پولیس افسر، فوجی، گینگسٹر، سیاست دان، باپ اور عام آدمی تک ہر طرح کے کردار ادا کیے۔ ان کی آواز ان کی سب سے نمایاں شناخت ضرور تھی، لیکن ان کی اصل طاقت کردار کے مطابق اپنی آواز، لہجے، جسمانی حرکات اور چہرے کے تاثرات کو تبدیل کرنا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی اداکار کبھی خوف پیدا کرتا تھا، کبھی غصہ دلاتا تھا، کبھی آنکھیں نم کردیتا تھا اور کبھی اپنے انداز سے ہنسی بکھیر دیتا تھا۔
نانا پاٹیکر کی موت کے بعد ان کے مداح انہیں مختلف کرداروں کے حوالے سے یاد کریں گے۔ کسی کے لیے وہ ’’کرانتی ویر‘‘ کا طاقتور کردار ہیں، کسی کے لیے ’’اب تک چھپن‘‘ کے پولیس افسر، کسی کے لیے ’’نٹسمراٹ‘‘ کا حساس فنکار اور کسی کے لیے ’’ویلکم‘‘ کے ادے شیٹی۔ یہی ایک بڑے فنکار کی پہچان ہوتی ہے کہ مختلف نسلوں کے لوگ اسے اپنے اپنے پسندیدہ کردار کے ذریعے یاد کریں۔
نانا پاٹیکر نے روایتی فلمی ہیرو کے بجائے کردار کو اپنی طاقت بنایا اور پھر یہی کردار ان کی شناخت بن گئے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اداکاری صرف خوب صورت چہرے، مرکزی کردار یا بڑے بجٹ کی فلم کا نام نہیں بلکہ کردار کو اس طرح پیش کرنے کا فن ہے کہ ناظر اسے حقیقی زندگی کا انسان سمجھنے لگے۔
آج نانا پاٹیکر ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کی فلمیں، مکالمے اور کردار موجود ہیں۔ آنے والی نسلیں جب ’’پرندہ‘‘، ’’کرانتی ویر‘‘، ’’اب تک چھپن‘‘، ’’ویلکم‘‘ یا ’’نٹسمراٹ‘‘ دیکھیں گی تو انہیں ایک ایسے اداکار کا فن نظر آئے گا جس نے کئی دہائیوں تک بھارتی سنیما میں اپنی الگ جگہ برقرار رکھی۔
زندگی کے آخری لمحات میں ایک گھر میں تنہا پڑی ان کی خاموشی اور پردے پر گونجنے والی ان کی گرج دار آواز، دونوں ان کی زندگی کے دو مختلف پہلوؤں کو سامنے لاتے ہیں۔ ایک طرف کروڑوں مداحوں کا محبوب اداکار، دوسری طرف ذاتی زندگی میں تنہائی کا سامنا کرنے والا ایک انسان۔ شاید یہی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بھی ہے کہ شہرت انسان کو لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتی ہے، لیکن ہر مشکل گھڑی میں اس کے پاس موجود شخص کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔
نانا پاٹیکر کی آواز خاموش ہوگئی ہے، مگر ان کا فنی سفر ختم نہیں ہوا۔ ان کے کردار اب بھی فلموں میں موجود ہیں، ان کے مکالمے اب بھی لوگوں کو یاد ہیں اور ان کی اداکاری اب بھی نئے فنکاروں کے لیے ایک مثال ہے۔ بھارتی سنیما میں کئی اداکار آئے اور وقت کے ساتھ گزر گئے، لیکن کچھ فنکار اپنی فلموں سے آگے نکل کر ایک عہد کی شناخت بن جاتے ہیں۔ نانا پاٹیکر بھی انہی فنکاروں میں شمار ہوں گے۔
کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کا مسئلہ اب صرف لوڈشیڈنگ تک محدود نہیں رہا۔ ایک طرف گھنٹوں بجلی بند رہنے کی شکایات ہیں، دوسری طرف بجلی کے بھاری بل گھروں کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس شہر کے شہری بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں،...
دنیا کی سیاسی تاریخ میں سڑک صرف سفر کا راستہ نہیں رہی، کئی مواقع پر یہی سڑک عوامی طاقت، احتجاج اور سیاسی مطالبات کے اظہار کا سب سے بڑا میدان بھی بنی۔ کبھی ہزاروں لوگ کسی قانون کے خلاف سڑکوں پر نکلے، کبھی کسی حکومت سے مطالبات منوانے کے لیے دارالحکومت کا رخ کیا اور...
جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کی گونج سرحدوں سے نکل کر بازاروں، بندرگاہوں، تیل کے کنوں، فیکٹریوں، دکانوں اور عام آدمی کے گھر تک پہنچتی ہے۔ ایک میز پر بیٹھے چند طاقتور ملک جب جنگ کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات ان لوگوں تک بھی پہنچتے ہیں جنہوں...
دنیا اس وقت متعدد جنگوں اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی زد میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، روس اور یوکرین جنگ اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد اب تائیوان کا معاملہ عالمی سیاست میں ایک اہم اور حساس مسئلے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ چین اور تائیوان کے...