قائداعظم محمد علی جناح کے شہر کراچی کا لگتا ہے کوئی بھی پرسانِ حال نہیں ہے۔اس شہرِ لاوارث کی سڑکیں کل تک کچرے سے بھری ہوئی تھیں۔ملک کو 70فیصد ریونیو دینے والا شہر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہا تھا اورہمارے ارباب اختیار ایک دوسرے پر اختیارات کی چھینا جھپٹی کا الزام لگا کر شتر مرغ کی طرح اپنے ہی پروں میں منہ چھپا کر اپنی اپنی ذمہ داری سے جان چھڑا رہے تھے۔تقریباً خشک سالی کا شکار یہ شہر بارشوں کی طلب میں بار بار آسمان کی جانب دیکھ رہا تھا۔ پورے ملک میں باران رحمت برس رہی تھی لیکن یہ شہر اس سے محروم تھا۔ شہر قائد کے باسی اپنی نمازوں میں گڑ گڑا کر دعائیں مانگ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کرم فرما اور اس شہر پر بھی اپنی کرم کی نظر ڈال۔آخر کار رب تعالیٰ کو رحم آگیا اور اُس نے اس شہرپر پانی کے بھرے بادل بھیج دیئے جو جم کر بر سے۔کل تک جس شہر کی سڑکیں کچرے سے اٹی ہوئی تھیں اس کی کئی سڑکیں ہی بہہ گئیں۔یہ بارش ایسے وقت میں ہوئی جب ایک جانب قوم عید الالضحیٰ کے موقع پر سنت ابراہیمی (قربانی)کی ادائیگی کے لیے تیاریاں کررہی تھی تو دوسری جانب کشمیر میں بھارتی جارحیت کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی اور جنگی کیفیت کی وجہ سے ’’یوم آزادی‘‘کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کے طور منانے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ایسی صورتحال میں کراچی کی سڑکوں پر 33قیمتی انسانی جانیں بارش میں کرنٹ لگنے سے ضائع ہو گئیں۔یہ وہ دکھ ہے جس کی شدت کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس شہر پر کیا کسی آسیب کا سایا ہے؟ یا ہمارے ارباب اختیار ہی آسیب کی شکل اختیار کر چکے ہیں؟اس بات پر غور و فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بات یہیں تک ہوتی تو چند دن رو پیٹ کر شاید ہم اس دکھ کو بھی بھول جاتے لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عید الالضحیٰ کے موقع پر ایک مرتبہ پھر شہر قائد کی بیش تر سڑکیں آلائشوں میں چھپ گئیں،گلیاں خون آلود ہوگئیں جگہ جگہ جانوروں کی باقیات سے بدبو اور تعفن اٹھنا شروع ہو گیا۔
کراچی میں حالیہ بارشوں سے جہاں متعدد سڑکیں،گلیاں اور گھر زیر آب آگئے وہیں شہر کے کئی قبرستانوں میں بھی پانی جمع ہوگیا۔
موسلادھار بارشوں کے بعد کئی قبرستانوں کی حالت خراب ہوگئی ہے۔ریکسر قبرستان، خاموش کالونی قبرستان، سخی حسن قبرستان، پاپوش نگر قبرستان، ماڈل کالونی قبرستان، جوہر قبرستان و دیگر میں بارش کے پانی کے باعث کیچڑ اور گندگی کا ڈھیر لگ گیا۔ پانی جمع ہونے سے کئی قبریں بیٹھ گئی ہیں جبکہ عید پر اپنے پیاروں کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے آنے والوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔یہاں بھی انتظامیہ کی عدم موجودگی نے یہ بات واضح کردی کہ اس شہر میں زندوں کا ہی نہیں مردوں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔بارشوں سے وفاقی، صوبائی اور شہری حکومت کے وہ تمام دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے جن میں ان بارشوں سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔یاد رہے کہ بارشوں سے کئی روز قبل محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کی پشگوئی کردی تھی۔بارشوں سے یوں تو پورا شہر جل تھل ہوگیا، لیکن زیادہ افتاد غریب اور پسماندہ علاقوں کے مکینوں پر پڑی۔ شہر کے متعدد علاقوں کے گھروں میں برساتی پانی داخل ہونے سے ان شہریوں کے گھر اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
مشکل کی اس گھڑی میں ایک مرتبہ پھر پاک فوج نے آگے بڑھ کر وہ ذمہ داری انجام دی جو بنیادی طور ان کی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے لیکن ہنگامی صورتحال میں جس طرح ہمیشہ پاک فوج قوم کی خدمت کے لیے میدان عمل میں اترتی ہے اسی طرح اس مرتبہ بھی بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال میں پھنسے ہوئے عوام کو مشکل سے نکالنے کے لیے پاک فوج کے جوانوں نے بھر پور کردار ادا کیا۔ پاکستان رینجرز سندھ کی جانب سے بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کا کام کیا گیا۔ اس سلسلے میں متاثرہ خاندانوں میں پاکستان رینجرز سندھ کی جانب سے کھانے پینے کی اشیاء اور راشن بھی تقسیم کیا گیا۔جن علاقوں میں راشن تقسیم کیا گیا ان میں دائود گوٹھ، سید اللہ گوٹھ، اتحاد ٹاون، ناگن چورنگی، حاجی مرید گوٹھ، سرحد کالونی، جہانگیر آباد، محمود گوٹھ، یوسف گوٹھ سرجانی، مواچھ گوٹھ، ہزارہ کالونی، دہلی کالونی، پنجاب کالونی، بزرٹا لائن، کرسچن کالونی، رنچھوڑ لائن، دھوبی گھاٹ، عثمان آباد، مچھر کالونی، محمدی کالونی، لیاری،ا عظم بستی،ماڈل کالونی، ملیر، مہران ڈپو اورگڈاپ ٹاون کے علاقے شامل تھے۔ایک جانب جب پاک فوج کے جوان عوام کی خدمت میں لگے ہوئے تھے تو اسی دوران حکمران زیادہ تر اپنی بڑی بڑی ائیر کنڈیشن گاڑیوں میں بیٹھ کر دور دور سے صورتحال کا جائزہ لیتے رہے یا پھر کسی کھلے چائے کے ہوٹل میں کچھ دیر بیٹھ کرفوٹو سیشن کراکر روانہ ہوگئے، لیکن عملی طور پر کچھ نہ ہوسکا۔سندھ حکومت ایک جانب نالوں کی صفائی کی ذمہ داری بلدیاتی حکومت پر ڈالتی رہی تو بلدیاتی حکومت وہی اختیارات کا نہ ہونا اور فنڈ کی کمی کا پرانا راگ الاپتی رہی۔عوام بے چارے حیرت سے ان دونوں کے درمیان جاری لفظی گولہ باری سن سن کر حیران اور پریشان ہوتے رہے۔
سندھ حکومت اور بلدیاتی حکموت کا اس پورے منظر نامے میں اگر کسی بات پر اتفاق تھا تو وہ صرف اور صرف بارشوں میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی موت کے ذمہ دار کے تعین کے بارے میں تھا دونوں اس بات پر متفق تھے کہ انسانی جانیں ’’کے الیکٹرک‘‘ کی نااہلی کی وجہ سے ضائع ہوئیں۔جہاں تک ان معصوم انسانوں کے لواحقین کو انصاف دلانے کی بات ہے تو اس حوالے سے کوئی بھی ٹھوس اور بامعنی لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا۔بارشوں کے دوران ضائع ہونے والی قیمتی انسانی جانوں کا بھی کوئی پوچھنے والانہیں تھا۔شہر کے مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے سے ہونے والی اموات کی ذمہ داری ’’کے الیکٹرک‘‘نے بلدیاتی حکومت پر ڈال دی۔ بے قصور انسانوں کی ہلاکت پر جب عوامی دباو بڑھا تو میئر کراچی ڈیفنس میں کرنٹ لگنے سے 3 نوجوانوں کے جاں بحق ہونے کی ایف آئی آر درج کرانے درخشاں تھانے پہنچے تو پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے ہی انکار کردیا۔بالآخر میئر کراچی وسیم اختر 6 گھنٹے بعد جاں بحق لڑکوں کے اہل خانہ کی مدعیت میں الیکٹرک کے سی ای او مونث علوی، مالک عارف نقوی اور دیگر عہدے داران خلاف ایف آئی آر درج کرانے میں کامیاب ہوگئے۔میئر کراچی کا کہنا تھا کہ 33افراد کے الیکٹرک کی غفلت سے ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے 16بچے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔حیرت اس بات پر ہے کہ دعویٰ 33افراد کی ہلاکت کا اور ایف آئی آرصرف 3نوجوانوں کی ہلاکت کی کٹوائی گئی۔کیا بقیہ 30افراد کا تعلق کراچی سے نہیں ہے؟کیا میئر کراچی صرف ڈیفنس کے میئر ہیں؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تا حال عوام کو نہیں ملا ۔
کراچی پر جب قیامت صغریٰ گزر رہی تھی اس وقت اس صوبے پر مسلسل تیسری مدت پوری کرنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت بیان بازی میں مصروف تھی۔پیپلز پارٹی کے سر براہ بلاول بھٹو زرداری مریم نواز کی گرفتاری پر چراغ پا تھے۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے۔کرپشن بچانے کی جنگ وہ اس انداز میں لڑ رہے ہیں جیسے ’’جہاد‘‘ کررہے ہیں۔جوش خطابت میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آج ان کے والد جو جیل یاترا کررہے ہیں وہ مقدمات اسی مریم نواز کے والد محترم ’’میاں نواز شریف‘‘نے ہی قائم کیے تھے۔اقتدار کی ہوس کے شکار ہمارے سیاسی قائدین اخلاقی، انسانی، قانونی اور مذہبی اقدار سے انتہائی نا بلد ہیں۔مہذب معاشرے میں انسانی وسائل کی چوری نہایت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔ہمارے ہمسایہ ممالک چین میں کرپشن ثابت ہونے پر سزائے موت دی جاتی ہے۔کرپشن میں سزا پانے والے اپنا منہ چھپاتے پھرتے ہیں اور ان کی قبریں گمنامی کی چادر اوڑھ لیتی ہیں۔ہمارے ملک میں کرپٹ لوگ سینہ تان کر چلتے ہیں،اپنے لیے خود ہی اسمبلیوں کو سب جیل قرار دے دیتے ہیں۔اقتدار کے نشے میں مست ہوکر یہ دعوے کرتے ہیں کہ ’’چیئرمین نیب کی مجال ہے کہ میرے خلاف کارروائی کرے‘‘اب جب نیب کارروائی کررہی ہے تو بجائے اس کے کہ نیب کو فری ہینڈ دیاجائے کہ وہ اپنا الزام ثابت کرے اگر وہ ثابت کردے تو ایسے لوگوں کو نشانِ عبرت بنا دیاجائے۔اس کے بر عکس ہمارے ملک میں اُلٹی گنگا بہتی ہے۔کرپٹ اور جرائم پیشہ افراد کو بچانے کے لیے سیاسی اشرافیہ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی ہے۔بلاول بھٹو صاحب کو اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ ان کی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کراچی کی عید گاہوں میں پانی کے جوتالاب بن گئے جس کی وجہ سے پہلی مرتبہ کراچی کی عیدگاہوں اور میدانوں میں نماز عید کے اجتماعات منعقد نہیں ہو سکے۔انہیں اس بات کا بڑا دکھ ہے کہ ان کے کرپشن کے الزامات میں گرفتار والد کو نمازِ عید ان کی مرضی سے ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔کاش وہ یہ بھی معلوم کرلیتے کہ ان کے والد کبھی نماز پڑھتے بھی ہے کہ نہیں؟دروغ بر گردنِ راوی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق صدر زرداری صاحب کے قریبی ذرائع کے مطابق انہیں قرآنِ مجید کی کوئی سورت یاد نہیں ہے نا ہی انہیں باقاعدہ پوری نماز درست انداز میں ادا کرنا آتی ہے۔
پاکستانی قوم نے 14 اگست کو یوم آزادی کے طور پر بھرپور جوش و جذبے سے منایا اور اپنے کشمیری بہن بھائیوں پر بھارت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف رد عمل پر ان سے بھرپور یکجہتی کی گئی۔ہمیں کراچی کے حوالے سے اسی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے ہم کب تک ان ناہل حکمرانوں کی جانب اپنے مسئال کے حل کے لیے دیکھتے رہیں گے۔’’میرا کراچی میری ذمہ داری‘‘ بھی ہے۔ ہمیں اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہو گی کراچی کو اپنانا ہوگا۔ نااہل حکمرانوں نے اس شہرِ بے مثال کا چہرہ مسخ کردیا ہے ہمیں اس کی عظمت رفتہ کو دوبارہ بحال کرکے اس عظیم شہر کواس کی اصل حیثیت میں واپس لانا ہوگا۔
پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں کی صورتحال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ملک کی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان تعلقات مثالی ہوں۔ ماضی میں پاکستان کو ایسی صورتحال کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا جب دونوں جانب معاملات انتہائی حساس صورت اختیار کر چکے ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں...
ملک میں حادثات کی ایک کے بعد دوسری خبر آتی ہے، چند لمحوں کے لیے فضا سوگوار ہوتی ہے، حکمران تعزیت کرتے ہیں، متعلقہ ادارے تحقیقات کا اعلان کرتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں اور پھر زندگی معمول کے مطابق چلنے لگتی ہے۔ مگر جن گھروں کے چراغ بجھ جاتے ہیں، جن...
اطلاع ہے کہ جنوری 2027 میں کراچی کی 20 اہم سڑکیں کھود دی جائیں گی۔ خبر سنتے ہی کراچی والوں کے دلوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ جانی چاہیے، آخر نئے سال کا آغاز نئے منصوبوں، نئی کھدائیوں اور نئے گڑھوں کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ شہر میں ترقی کا سفر جاری ہے،...
ہمارے معاشرے میں عورت کی کامیابی کا اعتراف کرنے سے پہلے اس کی اہلیت پر سوال اٹھانا ایک عام رویّہ بنتا جا رہا ہے۔ کسی خاتون کو اعزاز ملے، کسی ادبی محفل میں نمایاں مقام دیا جائے یا اس کی خدمات کو سراہا جائے تو بعض حلقوں سے فوراً آواز آتی ہے: ’’عورت ہے، اس...