پولیس کا محکمہ کسی بھی معاشرے میں امن و امان کی علامت اور شہریوں کے تحفظ کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پولیس کی اصل کارکردگی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شہری مصیبت میں اسے آواز دیتا ہے۔ ہم کینیڈا میں رہتے ہوئے جب پولیس کی پھرتی دیکھتے ہیں تو کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ یہ محکمہ ہے یا کوئی جادوئی مشین، جس کا بٹن دباتے ہی مدد حاضر ہو جاتی ہے! یہاں سڑک پر حادثہ ہو، کہیں جھگڑا ہو، گھر میں دھوئیں کا الارم بج اٹھے یا گھریلو تشدد کی اطلاع ملے، متعلقہ ایمرجنسی سروس کو فون کیا جاتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مدد پہنچنے لگتی ہے۔ بعض صورتوں میں پولیس کے ساتھ فائر بریگیڈ اور طبی امداد کی گاڑیاں بھی پہنچ جاتی ہیں۔ منظر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ ایک گاڑی کے پیچھے دوسری، پھر تیسری گاڑی، اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری بارات آ جاتی ہے بڑی ہی ویلی پولیس فرق صرف اتنا ہے کہ دولہا کی جگہ پولیس افسر، شہنائی کی جگہ سائرن اور پھولوں کی جگہ سرخ نیلی بتیاں ہوتی ہیں!
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے ایمرجنسی نمبر ملایا نہیں بلکہ چراغ رگڑ کر جن کو آزاد کر دیا ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ جن خواہشیں پوری کرنے کے بجائے جان بچانے اور مسئلہ حل کرنے پہنچتے ہیں۔ اب ذرا پاکستان کا رخ کرتے ہیں تو پولیس کے بارے میں عوامی شکایات اور تلخ تجربات کی ایک الگ داستان سامنے آتی ہے وہاں بعض اوقات شہری حادثے سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا اس کے بعد پولیس کی کارروائی سے ڈرتے ہیں۔ حادثہ اپنی جگہ ایک مصیبت ہے، مگر اس کے بعد کون کون سی مصیبتیں دروازے پر دستک دیں گی، یہ سوچ کر ہی پسینہ آنے لگتا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے شہری کو دو امتحان دینے پڑتے ہیں؛ پہلا حادثے سے بچنے کا اور دوسرا پولیس کے نظام سے نمٹنے کا۔ حالانکہ پولیس کا فرض شہری کے خوف میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ اسے تحفظ کا احساس دلانا ہے۔اور اگر کہیں ڈاکو آ جائے تو بعض شہریوں کے ذہن میں ایک اور ہی طنزیہ خیال جنم لیتا ہے: ڈاکو سے جان و مال کا خطرہ، پولیس سے پوچھ گچھ اور ممکنہ جھنجھٹ کا ڈر؛ عوام آخر جائیں تو جائیں کدھر؟ یہ یقیناً ایک تلخ طنز ہے، مگر اس کے پیچھے چھپا سوال بہت اہم ہے کہ جس وردی کو دیکھ کر شہری کو تحفظ محسوس ہونا چاہیے، اگر اسی سے خوف آنے لگے تو اعتماد کی بحالی کون کرے گا؟البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں بہت سے پولیس اہلکار مشکل حالات، محدود وسائل اور طویل ڈیوٹی کے باوجود اپنی جان خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ ان اہلکاروں سے زیادہ ان نظامی خامیوں کا ہے جو عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی دیوار کھڑی کر دیتی ہیں۔ اسے مار پیٹ کرکے اعترافِ جرم کرانے کی اجازت نہیں۔ تفتیش شواہد، سوالات اور قانونی طریق? کار کے مطابق ہونی چاہیے۔ اب آتے ہیں وارداتوں کی تفتیش کی طرف۔ ہماری پولیس سچ پر یقین بالکل نہیں رکھتی اور ہمیشہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سچ بولنے والے ملزم سے جھوٹ بلوایا جائے،اصل مجرم تو ان کے ہاتھ کم ہی آتے ہیں مگر اپنی ساکھ بچانے کے لئے کسی بھی بے گناہ کو پکڑ لیتے ہیں ، وہ بے چارہ جب تک سچ بولتا رہتا ہے کہ صاحب جی، میں نے کچھ نہیں کیااس کی چھترول مسلسل جاری رہتی ہے،مگر جب وہ تنگ آکر اپنے ناکردہ گناہ کا ‘‘ اقرار ‘‘کر لیتا ہے یعنی جھوٹ بولتا ہے تب کہیں جاکر پولیس کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
بعض معاملات میں پولیس مجرم تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہے تو ایک کردار سامنے آتا ہے جسے عرفِ عام میں ’’نامعلوم افراد‘‘ کہا جاتا ہے۔یہ نامعلوم افراد بھی کمال کے ہیں ، نہ چہرہ معلوم، نہ پتا، نہ شناخت، مگر واردات کی کہانی میں ان کا ذکر ضرور موجود ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ملک میں کوئی الگ ہی مخلوق آباد ہے جو واردات کرکے ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے اور پیچھے تفتیشی فائل چھوڑ جاتی ہے!ظاہر ہے، ہر نامعلوم ملزم کے پیچھے پولیس کی غفلت نہیں ہوتی۔ کئی جرائم میں واقعی سراغ نہیں ملتے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر تفتیش بار بار بے نتیجہ رہے تو شہری انصاف کی امید کہاں سے لائے؟ جدید تفتیشی طریقے، فرانزک سہولتیں، اہلکاروں کی تربیت اور مؤثر نگرانی کے بغیر صرف رپورٹ درج کر دینا جرم کا حل نہیں ہمارے ہاں بعض وارداتوں میں مجرم نامعلوم، تفتیش نامکمل اور عوام کا انتظار لامحدود ہوتا ہے وردی کی جیب اور چائے پانی!پولیس کے نظام پر بات ہو اور چائے پانی کا ذکر نہ آئے، یہ کیسے ممکن ہے؟عوامی شکایات میں کبھی کبھار ایسے واقعات کا ذکر بھی سننے کو ملتا ہے جہاں کسی شہری کو معمولی کام کے لیے بھی غیر ضروری پیسے دینے پڑتے ہیں۔ اب شہری سوچتا ہے کہ چائے تو میں اپنی جیب سے پی لیتا، آپ کو بل کس خوشی میں ادا کروں؟ لیکن یہاں ایک اہم پہلو بھی ہے۔ سڑکوں پر دھوپ، سردی اور بارش میں ڈیوٹی دینے والے عام کانسٹیبل کی زندگی بھی دیکھی جانی چاہیے۔ اس کے بھی بچے ہیں، گھر کا خرچ ہے اور ضروریاتِ زندگی ہیں۔ اگر تنخواہ ناکافی ہو، ڈیوٹی کے اوقات طویل ہوں اور بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں تو حکومت کو اس صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ اگر اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے افسران کو بہتر رہائش، سرکاری گاڑیاں اور دیگر سہولتیں میسر ہوں تو نچلے درجے کے اہلکاروں کی ضروریات کو بھی اسی سنجیدگی سے کیوں نہ دیکھا جائے؟ کیا ادارے کے اندر سہولتوں کی تقسیم اور وسائل کے استعمال میں شفافیت نہیں ہونی چاہیے؟البتہ ایک بات واضح ہے: کم تنخواہ رشوت کا جواز نہیں بن سکتی۔ سرکاری ملازم کی تنخواہ حکومت کی ذمہ داری ہے، شہری کی جیب نہیں۔ اگر کوئی اہلکار غیر قانونی طور پر پیسے مانگتا ہے تو اس کا احتساب ہونا چاہیے، اور اگر اس کی تنخواہ ناکافی ہے تو اسے بہتر بنانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔اب ذرا اس موٹر سائیکل سوار کا تصور کیجیے جو پہلے ہی پٹرول کی قیمتوں، مہنگائی اور گھر کے اخراجات سے پریشان ہے۔ اسے سڑک پر روکا جائے اور وہ قانون کے مطابق ضروری کارروائی کے بجائے کسی غیر قانونی ادائیگی کے مطالبے سے دوچار ہو تو اس کی پریشانی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔دونوں شاید ایک ہی معاشی کشتی کے مسافر ہوں؛ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کے ہاتھ میں موٹر سائیکل کا ہینڈل ہے اور دوسرے کے ہاتھ میں قانون کی کتاب! مگر قانون کی کتاب اگر شہری کی رہنمائی کے بجائے اس کی جیب ہلکی کرنے کا ذریعہ بن جائے تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے۔غریب موٹر سائیکل والا پٹرول اپنی جیب سے ڈلواتا ہے، چالان کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہے اور کبھی کبھی چائے پانی کا بل بھی اپنی ہی جیب سے ادا کرتا ہے۔ آخر اس کی جیب ہے یا سرکاری خزانہ؟پولیس کی کارکردگی صرف گاڑیوں کی رفتار، وردی کی چمک یا سائرن کی آواز سے نہیں ناپی جا سکتی۔ اصل امتحان یہ ہے کہ شہری کی جان، عزت اور مال کا تحفظ کس حد تک یقینی بنایا جاتا
ہے۔پاکستان میں پولیس کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ عام اہلکاروں کو مناسب تنخواہ، طبی سہولتیں، رہائش اور دیگر جائز مراعات فراہم کی جائیں۔ جدید تربیت، تفتیشی وسائل، فرانزک سہولتیں اور ایمرجنسی کالز پر فوری کارروائی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ اعلیٰ افسران سمیت ہر درجے کے اہلکار کے لیے شفاف احتساب اورشکایات کے ازالے کا قابلِ اعتماد طریقہ موجود ہو۔سیاسی اور بااثر مداخلت سے ادارے کو آزاد رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ قانون کا اطلاق عام شہری اور طاقتور شخص دونوں پر یکساں ہو۔ پولیس ایسا ادارہ ہونا چاہیے جس کے دروازے پر شہری اپنی شکایت لے کر بلا خوف پہنچے، اسے یقین ہو کہ اس کی بات سنی جائے گی، رپورٹ درج ہوگی اور اسے انصاف کے حصول کے لیے کسی سفارش یا تعلق کی ضرورت نہیں پڑے گی۔کینیڈا میں پولیس کو دیکھ کر عموماً ایک اطمینان کا احساس ہوتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر مدد مل سکتی ہے۔ یہاں پولیس سے رابطہ کرنا شہری کے لیے محض ایک سرکاری کارروائی نہیں بلکہ مدد حاصل کرنے کا ذریعہ محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں بعض شہری پولیس کے پاس جانے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں۔ کہیں شکایت درج کرانے میں مشکل نہ ہو، کہیں الٹا سوالات کا سامنا نہ کرنا پڑے، کہیں بااثر فریق کی مداخلت مسئلہ مزیدپیچیدہ نہ کر دے۔ نتیجتاً بعض لوگ شکایت درج کرانے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔اب ذرا سوچیے، اگر کوئی شہری چوری، دھمکی یا کسی زیادتی کا شکار ہو اور وہ پولیس کے خوف سے اپنی شکایت ہی درج نہ کرائے تو مجرم تک پہنچنے کا راستہ کیسے کھلے گا؟ جس ادارے کا کام شہری کو خوف سے نجات دلانا ہے، اگر اسی کے پاس جانے سے خوف محسوس ہو تو یہ صورتِ حال اصلاح کی متقاضی ہے۔پولیس کی وردی دیکھ کر مجرم کو قانون کا خوف اور مظلوم کو تحفظ کا احساس ہونا چاہیے؛ اگر مظلوم ہی خوف زدہ ہو تو نظام کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا ہوگا۔ہمیں ایسا پولیس نظام چاہیے جہاں شہری کو رپورٹ درج کرانے کے لیے سفارش نہ ڈھونڈنی پڑے، اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور اس کی شکایت کو محض ایک کاغذ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ جب پولیس عوام کی محافظ بنے گی تو عوام بھی اسے اپنا محافظ سمجھیں گے۔ اعتماد حکم سے نہیں، انصاف اور اچھے برتاؤ سے پیدا ہوتا ہے۔
بد اچھا بدنام برا نام بڑا درشن چھوٹے اس طرح کے کئی محاورے اور مثالیں نام پر پائی جاتی ہیں ۔ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا،آجکل فی زمانہ نام میں کچھ نہیں رکھا دیکھا جائے تو اگر نام کے ساتھ بدلگ جائے تو اس کے لئے دولت ،عزت ،شہرت کے دروازے کھل...
کینیڈا کے موسم کا کوئی بھروسا نہیں کہتے ہیں یہاں سال کے چھ موسم ہوتے ہیں، جن میں تین وہ ہیں جن کا کوئی بھروسا نہیں! یہاں موسم کی پیش گوئی دیکھ کر گھر سے نکلنا بھی ایک طرح کا امتحان ہے۔ صبح سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو تو آدمی سوچتا...
ہم امریکہ ،کینیڈا ، یورپ میں دیکھتے ہیں کہ (Senior Citizens) سینئر شہریوں کو بیکار یا معاشرے پر بوجھ نہیں سمجھا جاتا۔ شاپنگ مال ہوں، بڑے اسٹور ہوں یا سپر مارکیٹوں کی کیشئر جابز، ہر جگہ بڑی عمر کے مرد اور خواتین کام کرتے دکھائی دیتے ہیں بعض خواتین تو ایئرلائنز میں بھی ائیرہوسٹس کے...
کینیڈا اور امریکہ کا تعلق ساس بہو والا ہوگیا ہے ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جنگل کی آگ کا ساس بہو سے کیا تعلق؟ مگر عالمی سیاست پر نظر ڈالیں تو کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ بعض ممالک کے تعلقات بھی ہمارے معاشرے کے ساس بہو کے رشتے سے ملتے جلتے ہیں۔ بہو...