بالی وڈ اداکار عمران خان ان دنوں اپنی کسی نئی فلم کے بجائے شہریت اور بھارت میں قیام سے متعلق معاملے پر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ بھارتی حکام نے انہیں 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں شرکت کے بعد سامنے آئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کا تعلق بالی وڈ کے ایک معروف فلمی خاندان سے ہے، ان کے ماموں عامر خان بھارتی سنیما کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن خود عمران خان امریکی شہری ہیں۔ اب ان کی شہریت، خاندانی پس منظر اور بھارت میں قیام کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث ہے۔
عمران خان 13 جنوری 1983 کو امریکا کی ریاست وسکونسن کے شہر میڈیسن میں پیدا ہوئے۔ امریکی سرزمین پر پیدائش ان کی شہریت کے معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بعد ازاں ان کی پرورش بھارت میں ہوئی اور وہ ممبئی کے ماحول میں پلے بڑھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں امریکی شہریت اور بھارتی فلمی دنیا سے تعلق دو الگ مگر اہم پہلو بن کر سامنے آتے ہیں۔
عمران خان کے والد انیل پال بنگالی ہندو اور پیشے کے اعتبار سے سافٹ ویئر انجینئر بتائے جاتے ہیں، جب کہ ان کی والدہ نزہت خان معروف بھارتی فلم ساز ناصر حسین کی بیٹی ہیں۔ نزہت خان، بالی وڈ اداکار عامر خان کی بہن ہیں۔ یوں عمران خان کا تعلق اس فلمی خاندان سے ہے جس نے کئی دہائیوں تک بھارتی سنیما میں اپنی پہچان قائم رکھی۔
ان کے خاندانی پس منظر میں مختلف ثقافتی اور مذہبی شناختیں بھی شامل ہیں۔ والد کا تعلق بنگالی ہندو خاندان سے ہے، جب کہ والدہ کی جانب سے وہ بھارتی مسلم فلمی خاندان سے وابستہ ہیں۔ تاہم کسی خاندان کی مذہبی شناخت یا بھارت سے خاندانی تعلق بذاتِ خود شہریت کا تعین نہیں کرتا۔ عمران خان کی امریکی شہریت کا بنیادی سبب ان کی امریکا میں پیدائش ہے، جب کہ ان کا بالی وڈ سے تعلق خاندانی رشتوں اور فلمی سفر کی وجہ سے قائم ہوا۔
عمران خان کو بالی وڈ میں ابتدائی شناخت اپنے ماموں عامر خان کے فلمی خاندان سے تعلق کے باعث بھی ملی، لیکن انہوں نے اداکاری کے میدان میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی۔ وہ بچپن میں بھی فلمی ماحول سے واقف تھے اور بعد میں اداکاری کو اپنا پیشہ بنایا۔
2008 میں فلم ’جانے تو یا جانے نا‘ نے انہیں نوجوانوں میں خاصی مقبولیت دلائی۔ فلم میں ان کے انداز، سادہ شخصیت اور رومانوی کردار کو پسند کیا گیا۔ اس فلم کی کامیابی نے عمران خان کو ایک ایسے اداکار کے طور پر متعارف کرایا جو روایتی ایکشن ہیرو کے بجائے نوجوان نسل کی کہانیوں میں فٹ بیٹھتا تھا۔
اس کے بعد انہوں نے ’آئی ہیٹ لو اسٹوریز‘، ’بریک کے بعد‘، ’میرے برادر کی دلہن‘، ’دہلی بیلی‘ اور ’ایک میں اور ایک تو‘ جیسی فلموں میں کام کیا۔ ان فلموں میں ان کے کردار مختلف نوعیت کے تھے اور انہوں نے رومانوی کامیڈی سے لے کر نسبتاً منفرد موضوعات تک اپنی اداکاری کے تجربات کیے۔
خصوصاً ’دہلی بیلی‘ میں ان کا کردار ان کی رومانوی ہیرو والی شبیہ سے مختلف تھا۔ اس فلم نے ثابت کیا کہ عمران خان صرف روایتی رومانوی کرداروں تک محدود نہیں رہنا چاہتے۔ تاہم فلمی دنیا میں ابتدائی کامیابی کے باوجود ان کا کیریئر مسلسل بلندی کی طرف نہیں بڑھ سکا۔
2015 کے بعد عمران خان نے فلموں میں کام کرنا تقریباً چھوڑ دیا۔ ان کی غیر موجودگی نے مداحوں کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کیے، کیونکہ ایک وقت تھا جب انہیں نوجوان اداکاروں میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ وہ فلمی تقریبات اور اسکرین پر پہلے کی طرح نظر نہیں آتے تھے اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے بجائے نجی معاملات زیادہ زیر بحث آنے لگے۔
عمران خان کی فلمی دنیا سے دوری نے ان کے مداحوں کو مایوس بھی کیا۔ ان کی پہلی بڑی کامیابی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ وہ مسلسل فلموں میں کام کریں گے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اس کے باوجود ان کی ابتدائی فلمیں آج بھی انہیں یاد رکھنے کی ایک وجہ ہیں، خصوصاً وہ فلمیں جن میں انہوں نے نوجوانوں کے جذبات اور رشتوں سے جڑے کردار ادا کیے۔
ان کے کیریئر کی یہ خاموشی ان کی ذاتی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ بھی خبروں میں رہی۔ اداکار کی نجی زندگی، شادی اور بعد کے تعلقات پر بھارتی میڈیا میں وقتاً فوقتاً خبریں شائع ہوتی رہیں۔
عمران خان نے اونتیکا ملک سے شادی کی تھی۔ اس رشتے سے ان کی ایک بیٹی بھی ہے، جس کا نام عمارہ بتایا جاتا ہے۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان علیحدگی کی خبریں سامنے آئیں اور ان کی ازدواجی زندگی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
عمران خان کے نام کے ساتھ بعد کے برسوں میں اداکارہ لیکھا واشنگٹن کا نام بھی جوڑا گیا۔ تاہم ان کی نجی زندگی کے معاملات سے ہٹ کر موجودہ تنازع نے انہیں ایک بار پھر قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ میں لا کھڑا کیا ہے۔
اس بار معاملہ کسی فلم، شادی یا رشتے کا نہیں، بلکہ بھارت میں ان کے قانونی قیام اور امریکی شہریت سے متعلق ہے۔ یہی پہلو اس خبر کو عام شوبز تنازع سے مختلف بناتا ہے-
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان نے 10 اکتوبر کو ممبئی کے اگست کرانتی میدان کے قریب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شرکت کی تھی۔ اس مظاہرے میں انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں پر اعتراضات اٹھائے گئے اور چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاج کے دوران ممبئی پولیس نے عمران خان کو دیگر مظاہرین کے ساتھ مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا۔ اس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کریٹ سومیا نے پولیس کو شکایت دی کہ عمران خان امریکی شہری اور اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ کے حامل ہونے کے باوجود سیاسی احتجاج میں شریک ہوئے، جو ان کے بقول متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اس شکایت کے بعد معاملہ فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس تک پہنچا، جس نے عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نوٹس میں امیگریشن اور غیر ملکی شہریوں سے متعلق قانون کی مبینہ خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔
یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ او سی آئی کارڈ بھارتی شہریت نہیں ہوتا۔ یہ بھارتی نڑاد غیر ملکی شہریوں کو بھارت میں طویل مدتی قیام اور بعض سہولتوں کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس کے حامل افراد کو بھارتی شہریوں کے تمام حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ عمران خان کے معاملے میں حکام کی کارروائی کا تعلق ان کی امریکی شہریت اور احتجاج میں شرکت سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم نوٹس کے قانونی جواز اور اس کے اطلاق پر تنازع موجود ہے۔
بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق عمران خان کے وکلا نے نوٹس کو چیلنج کرنے کے لیے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کی تصدیق کی ہے۔ ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ متعلقہ قانون یا او سی آئی ضوابط میں کسی غیر ملکی شہری کے ہر قسم کے احتجاج میں شرکت پر واضح اور عمومی پابندی موجود نہیں۔
اس معاملے میں حتمی قانونی صورت حال عدالت میں پیش ہونے والی درخواست، حکام کے نوٹس میں بیان کردہ وجوہات اور متعلقہ قانون کی تشریح سے واضح ہوگی۔ فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عمران خان پر عائد الزام ثابت ہوچکا ہے یا ان کے خلاف کارروائی کا حتمی فیصلہ ہوگیا ہے۔ انہیں بھارت چھوڑنے کا نوٹس ضرور دیا گیا ہے، لیکن وہ اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
عمران خان کی کہانی میں سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ ان کا تعلق ایک معروف بھارتی فلمی خاندان سے ہے، ان کے ماموں عامر خان بالی وڈ کے بڑے اداکار ہیں اور ان کی والدہ کا خاندان کئی دہائیوں سے بھارتی فلمی صنعت کا حصہ رہا ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کی اپنی شہریت امریکی ہے، کیونکہ وہ امریکا میں پیدا ہوئے تھے۔
ان کے والد کا ہندو بنگالی پس منظر، والدہ کی جانب سے ناصر حسین کے فلمی خاندان سے رشتہ اور عامر خان سے قریبی تعلق ان کی خاندانی شناخت کے مختلف پہلو ہیں، مگر یہ تمام باتیں قانونی شہریت سے الگ ہیں۔ یہی فرق اب ایک ایسے تنازع کا مرکز بن گیا ہے جس میں شوبز، سیاست اور امیگریشن قانون ایک ساتھ زیر بحث آگئے ہیں۔
عمران خان ایک وقت میں نوجوانوں کے پسندیدہ بالی وڈ اداکار تھے، پھر وہ طویل عرصے تک فلمی دنیا سے دور رہے۔ اب ان کا نام دوبارہ خبروں میں ہے، مگر اس بار وجہ کوئی نئی فلم نہیں بلکہ بھارت میں قیام کا قانونی معاملہ ہے۔ آنے والے دنوں میں بمبئی ہائی کورٹ میں ممکنہ درخواست اور حکام کے مؤقف سے یہ واضح ہوسکے گا کہ 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کے نوٹس کا مستقبل کیا بنتا ہے۔
بھارتی سنیما کے معروف اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی فلمی صنعت میں سوگ کی فضا پھیل گئی۔ تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط فنی سفر میں نانا پاٹیکر نے ولن، پولیس افسر، فوجی، گینگسٹر، سیاست دان، باپ اور عام آدمی سمیت مختلف...
کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کا مسئلہ اب صرف لوڈشیڈنگ تک محدود نہیں رہا۔ ایک طرف گھنٹوں بجلی بند رہنے کی شکایات ہیں، دوسری طرف بجلی کے بھاری بل گھروں کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس شہر کے شہری بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں،...
دنیا کی سیاسی تاریخ میں سڑک صرف سفر کا راستہ نہیں رہی، کئی مواقع پر یہی سڑک عوامی طاقت، احتجاج اور سیاسی مطالبات کے اظہار کا سب سے بڑا میدان بھی بنی۔ کبھی ہزاروں لوگ کسی قانون کے خلاف سڑکوں پر نکلے، کبھی کسی حکومت سے مطالبات منوانے کے لیے دارالحکومت کا رخ کیا اور...
جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کی گونج سرحدوں سے نکل کر بازاروں، بندرگاہوں، تیل کے کنوں، فیکٹریوں، دکانوں اور عام آدمی کے گھر تک پہنچتی ہے۔ ایک میز پر بیٹھے چند طاقتور ملک جب جنگ کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات ان لوگوں تک بھی پہنچتے ہیں جنہوں...