اطلاع ہے کہ جنوری 2027 میں کراچی کی 20 اہم سڑکیں کھود دی جائیں گی۔ خبر سنتے ہی کراچی والوں کے دلوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ جانی چاہیے، آخر نئے سال کا آغاز نئے منصوبوں، نئی کھدائیوں اور نئے گڑھوں کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ شہر میں ترقی کا سفر جاری ہے، البتہ یہ الگ بات ہے کہ اس سفر میں شہری آگے بڑھ رہے ہیں یا ان کی گاڑیاں گڑھوں میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
کراچی میں سڑک کا کھدنا کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تجربہ ہے۔ اس کے لیے حوصلہ، صبر، مضبوط اعصاب اور گاڑی کے اچھے شاک ٓآبزرورز درکار ہوتے ہیں۔ عام شہروں میں سڑکیں لوگوں کو منزل تک پہنچاتی ہیں، لیکن کراچی میں سڑکیں شہریوں کو زندگی کے تلخ حقائق سے روشناس کراتی ہیں۔ یہاں سفر شروع کرتے وقت منزل کا پتا تو ہوتا ہے، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ راستے میں کتنے گڑھے، کتنے بیرئیر اور کتنے ترقیاتی منصوبے استقبال کے لیے کھڑے ہوں گے۔
جنوری 2027 میں اگر واقعی 20 اہم سڑکیں کھودی جاتی ہیں تو کراچی کے شہریوں کو چاہیے کہ ابھی سے اپنی تیاری شروع کردیں۔ موٹر سائیکل والے اپنے ہیلمٹ کے ساتھ کمر کی حفاظت کا بھی سوچیں، گاڑی والے ٹائروں کی حالت بہتر کرلیں اور دفتر جانے والے ملازمین اپنی گھڑیوں کے بجائے گھر سے نکلنے کے وقت میں اضافہ کرلیں۔ کیونکہ کراچی میں وقت پر پہنچنا اب صرف محنت کا نہیں، قسمت کا بھی معاملہ بن چکا ہے۔
سب سے زیادہ پریشانی ان لوگوں کو ہوگی جو روزانہ ایک ہی راستے سے دفتر، اسکول یا کاروبار کے لیے نکلتے ہیں۔ برسوں کی مشق سے انہوں نے جو راستہ یاد کیا ہوگا، وہ اچانک بند ملے گا۔ سامنے بورڈ نصب ہوگا: ’’تکلیف کے لیے معذرت، ترقیاتی کام جاری ہے۔‘‘ شہری بورڈ پڑھ کر سوچے گا کہ معذرت قبول ہے، لیکن اب گزرنے کا راستہ کہاں ہے؟ جواب میں شاید کوئی ہاتھ سے اشارہ کرکے بتادے کہ آگے سے دائیں مڑیں، پھر بائیں جائیں، پھر ایک تنگ گلی سے نکلیں اور اگر وہاں بھی راستہ بند ہو تو اپنی قسمت آزمائیں۔
کراچی کا شہری ان حالات میں اتنا تجربہ کار ہوچکا ہے کہ چند ہی دنوں میں متبادل راستوں کا ماہر بن جاتا ہے۔ جو شخص پہلے صرف اپنے گھر اور دفتر کے درمیان کا راستہ جانتا تھا، وہ اب ایسی گلیوں سے بھی واقف ہوجاتا ہے جن کے نام اس نے پہلے کبھی نہیں سنے۔ وہ نقشے دیکھنے کے بجائے مقامی دکانداروں سے معلومات لیتا ہے اور ہر موڑ پر ایک نئی مہم کا آغاز کرتا ہے۔
دفتر پہنچنے پر افسر پوچھتا ہے، ’’آج پھر دیر ہوگئی؟‘‘
ملازم جواب دیتا ہے، ’’سر، میں وقت پر گھر سے نکلا تھا، لیکن راستے میں ترقیاتی کام مل گیا۔‘‘
افسر شاید اسے بہانہ سمجھے، مگر کراچی کا شہری جانتا ہے کہ بعض اوقات شہر میں سفر کرنے کے لیے صرف گاڑی نہیں، غیر معمولی صبر بھی درکار ہوتا ہے۔
اب رکشہ ڈرائیوروں کا معاملہ دیکھ لیجیے۔ جنوری میں اگر 20 اہم سڑکیں کھدائی کی زد میں آگئیں تو ان کے لیے بھی کرایہ طے کرنے کا نیا فارمولا سامنے آسکتا ہے۔ مسافر منزل بتائے گا تو ڈرائیور پہلے سوال کرے گا، ’’صاحب، آپ کو وہاں پہنچنا ضروری ہے یا صرف سیر کا ارادہ ہے؟‘‘ مسافر حیران ہوکر پوچھے گا کہ اس سوال کا کرائے سے کیا تعلق ہے؟ ڈرائیور جواب دے گا، ’’جناب، پٹرول کا خرچ الگ، وقت الگ، گڑھوں میں گاڑی کے پرزوں کا خرچ الگ اور راستہ ڈھونڈنے کی محنت الگ!‘‘
یوں کراچی میں سفر کے کرائے کے ساتھ ایک نئی مد بھی شامل ہوسکتی ہے، جسے عرف عام میں ’’کھدائی الاؤنس‘‘ کہا جائے گا۔ اگر ایسا ہوگیا تو شہریوں کو حیرت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہاں سڑک پر سفر کرنے کے اخراجات کا حساب بھی حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔
دکانداروں کی پریشانی بھی کم نہیں ہوگی۔ جس دکان کے سامنے سڑک کھودی جائے گی، وہاں گاہک آنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچے گا۔ دکاندار دروازے پر کھڑا آواز دے گا، ’’آئیے جناب، دکان کھلی ہے!‘‘ گاہک دور سے پوچھے گا، ’’لیکن راستہ کہاں ہے؟‘‘ دکاندار جواب دے گا، ’’راستہ تو زیرتعمیر ہے، آپ ہمت کرکے آجائیں!‘‘
اس صورت حال میں کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگا۔ چھوٹی دکانوں، کلینکوں، اسکولوں اور دفاتر تک رسائی مشکل ہو تو نقصان صرف وقت کا نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کی آمدنی، بچوں کی تعلیم اور مریضوں کی سہولت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے سڑکوں کی کھدائی کو محض ایک معمول کا کام سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
البتہ اس سارے معاملے میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر منصوبے سے پہلے مکمل منصوبہ بندی کی جائے گی؟ کیا متعلقہ ادارے ایک دوسرے
سے رابطہ کریں گے؟ کیا پانی، گیس، بجلی، نکاسی آب اور انٹرنیٹ کی لائنوں سے متعلق کام باہم مربوط ہوں گے؟ یا حسب روایت ایک ادارہ سڑک بنائے گا، دوسرا اسے کھودے گا، تیسرا اپنی لائن ڈالے گا اور چوتھا کچھ عرصے بعد مرمت کے نام پر دوبارہ پہنچ جائے گا؟
کراچی میں شہریوں کا سب سے بڑا شکوہ یہی ہے کہ بعض مقامات پر سڑک بنتی ہے تو کچھ عرصے بعد دوبارہ کھدائی شروع ہوجاتی ہے۔ عوام یہ نہیں کہتے کہ ترقیاتی کام بند کردیے جائیں۔ انہیں معلوم ہے کہ پرانی لائنوں کی تبدیلی، نکاسی آب کی بہتری اور پانی کی فراہمی کے لیے تعمیراتی کام ضروری ہوسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کام اس انداز میں کیوں نہ کیا جائے کہ ایک ہی سڑک بار بار کھودنے کی ضرورت پیش نہ آئے؟
اگر جنوری 2027 میں 20 اہم سڑکوں پر کام ہونا ہے تو متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ ہر سڑک کا واضح شیڈول جاری کریں۔ شہریوں کو بتایا جائے کہ کام کب شروع ہوگا، کب مکمل ہوگا اور متبادل راستہ کون سا ہوگا۔ ٹھیکے داروں کو پابند کیا جائے کہ کام مکمل ہوتے ہی سڑک معیاری حالت میں بحال کریں۔ محض مٹی ڈال کر یا عارضی مرمت کرکے معاملہ ختم نہ کیا جائے، کیونکہ چند دن بعد وہی جگہ دوبارہ خراب ہو تو شہریوں کی پریشانی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام بھی ہونا چاہیے۔ شہری اگر کسی بند راستے، غیر ضروری تاخیر یا ناقص تعمیر کی شکایت کریں تو متعلقہ ادارہ اس پر کارروائی کرے۔ ہر منصوبے کے مقام پر ایسا بورڈ نصب کیا جائے جس پر منصوبے کی تفصیلات، تکمیل کی متوقع تاریخ اور ذمہ دار ادارے کا نام درج ہو۔ اس سے کم از کم عوام کو معلوم ہوگا کہ کام کس کے ذمے ہے اور تاخیر کی صورت میں جواب دہی کس سے طلب کی جاسکتی ہے۔
ابھی جنوری 2027 آنے میں وقت ہے، اس لیے 20 اہم سڑکوں کی کھدائی سے متعلق اطلاع کی باقاعدہ تصدیق اور تفصیلات سامنے آنا ضروری ہے۔ اگر یہ منصوبہ حقیقت ہے تو عوام کو بروقت آگاہ کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، تاکہ شہری اپنے سفر، کاروبار اور روزمرہ معمولات کی منصوبہ بندی کرسکیں۔
کراچی والوں کو ترقی سے کوئی اختلاف نہیں، اختلاف صرف اس انداز سے ہے جس میں سڑک بنتی ہے، پھر کھودی جاتی ہے، دوبارہ بنتی ہے اور کچھ عرصے بعد پھر کسی نئے منصوبے کی نذر ہوجاتی ہے۔ شہری چاہتے ہیں کہ ترقی کا فائدہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی محسوس ہو، نہ کہ صرف سڑکوں پر لگے بورڈوں اور منصوبوں کے اعلانات میں دکھائی دے۔
آخر میں متعلقہ حکام سے ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ جناب، سڑکیں ضرور کھودیے، شہر کو ترقی بھی چاہیے، لیکن خدارا شہریوں کے لیے واپسی کا راستہ بھی کھلا رکھیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کراچی والے صبح گھر سے نکلیں تو منزل تک پہنچنے کے لیے نقشہ نویس کی خدمات لینا پڑیں اور شام کو واپس آنے کے لیے اگلے مالی سال کے بجٹ کا انتظار کرنا پڑے۔
کراچی کے شہریوں کو ایسی ترقی چاہیے جس میں سڑکیں بنیں، سفر آسان ہو اور گڑھوں کے بجائے شہر کی کامیابیوں کا چرچا ہو۔
ہمارے ہاں کھیلوں کی کمی نہیں۔ بچپن میں گلی ڈنڈا، پٹھو گرم، آنکھ مچولی اور لٹو کھیلا جاتا تھا، جوانی میں سیاست کا کھیل شروع ہوجاتا ہے، اور عمر بڑھ جائے تو سب سے مقبول کھیل صوبہ صوبہ بن جاتا ہے۔ اس کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں نہ گیند...
دنیا نے ایٹم بم کی ہولناک تباہی دیکھی ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی آج بھی اس طاقت کی یاد دلاتے ہیں جو چند لمحوں میں ایک شہر کو ملبے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ لیکن اب انسان ایک ایسی نئی طاقت تخلیق کر رہا ہے جو بم کی شکل میں نہیں بلکہ کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور...
ریلیف کا لفظ سنتے ہی مہنگائی کے مارے عوام کے چہروں پر امید کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ جاتی ہے۔ حکومت کسی چیز میں ریلیف دینے کا اعلان کرے تو عام آدمی سوچتا ہے کہ شاید کچھ دن کے لیے ہی سہی، گھر کا بجٹ کچھ آسان ہوجائے گا۔ لیکن ہمارے ہاں ریلیف کی...
پاکستان میں جب بھی ترقی، انتظامی اصلاحات یا وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات ہوتی ہے تو نئے صوبوں کے قیام کا موضوع ضرور زیر بحث آ جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اگر ملک میں مزید صوبے بن جائیں تو عوام کے مسائل ان کی دہلیز تک حل ہوں گے، جبکہ کچھ لوگوں کا...