ملک میں حادثات کی ایک کے بعد دوسری خبر آتی ہے، چند لمحوں کے لیے فضا سوگوار ہوتی ہے، حکمران تعزیت کرتے ہیں، متعلقہ ادارے تحقیقات کا اعلان کرتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں اور پھر زندگی معمول کے مطابق چلنے لگتی ہے۔ مگر جن گھروں کے چراغ بجھ جاتے ہیں، جن ماؤں کی گودیں اجڑ جاتی ہیں اور جن بچوں کے سروں سے والدین کا سایہ اٹھ جاتا ہے، ان کے لیے معمول کی زندگی کبھی واپس نہیں آتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں انسانی جان کی قیمت صرف ایک تعزیتی بیان، چند لاکھ روپے کے معاوضے اور ایک تحقیقاتی کمیٹی تک محدود ہوکر رہ گئی ہے؟
ایک طرف ٹرین کا حادثہ، جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، اور دوسری طرف پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کا دل دہلا دینے والا سانحہ، جس کے بارے میں 34 ہلاکتوں کی اطلاع سامنے آئی۔ یہ واقعات محض الگ الگ حادثات نہیں، بلکہ ہمارے حفاظتی انتظامات، نگرانی کے نظام اور ادارہ جاتی جواب دہی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ ٹرین کی پٹری سے لے کر اسکول کی چھت تک، ہر جگہ ایک ہی سوال گونج رہا ہے: آخر عام شہری اپنی جان کی حفاظت کے لیے کس پر بھروسا کرے؟
ریل گاڑی میں سفر کرنے والا شخص ٹکٹ خریدتے وقت یہ نہیں سوچتا کہ وہ اپنی منزل تک پہنچے گا بھی یا نہیں۔ والدین بچوں کو اسکول بھیجتے ہوئے یہ تصور نہیں کرتے کہ تعلیم حاصل کرنے کی جگہ ان کے بچوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ وہ ریاست اور متعلقہ اداروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ریلوے کا نظام اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے، اسکول کی عمارت محفوظ ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کم از کم ان مقامات پر حفاظتی تقاضوں کی پابندی ضرور کرائیں گے جہاں انسانی جانوں کا معاملہ ہو۔ لیکن جب حادثات اس اعتماد کو توڑتے ہیں تو نقصان صرف جانوں کا نہیں ہوتا، ریاستی نظام پر عوام کے یقین کو بھی شدید دھچکا لگتا ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ حادثے کے بعد متحرک ہونے والے ادارے حادثے سے پہلے کتنے متحرک تھے؟ کیا ریلوے کے متعلقہ حکام نے حفاظتی انتظامات کا باقاعدہ جائزہ لیا تھا؟ کیا پٹریوں، سگنلوں، انجنوں اور کوچز کی دیکھ بھال کے لیے مقررہ نظام پر پوری طرح عمل کیا جا رہا تھا؟ کیا اسکول کی عمارت کا معائنہ ہوا تھا؟ کیا چھت کی مضبوطی، تعمیراتی معیار اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے ضروری شرائط پوری کی گئی تھیں؟ ان سوالات کے جوابات محض قیاس آرائی یا الزام تراشی سے نہیں، شفاف تحقیقات اور قابلِ تصدیق ریکارڈ سے سامنے آنے چاہییں۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہر حادثہ لازماً کسی ادارے کی غفلت کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ بعض واقعات کی وجوہات تکنیکی خرابی، اچانک پیش آنے والے حالات یا انسانی غلطی بھی ہوسکتی ہیں۔ لیکن یہی تو تحقیقات کا اصل مقصد ہے کہ معلوم کیا جائے کہ حادثہ کیوں پیش آیا، کیا اسے روکا جا سکتا تھا، کس سطح پر حفاظتی انتظامات ناکام ہوئے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کیسے ممکن ہے۔ اگر تحقیقات سے پہلے ہی ذمہ داروں کا تعین کرلیا جائے تو انصاف متاثر ہوتا ہے، لیکن اگر تحقیقات کے نام پر ذمہ داری کا تعین ہی نہ ہو تو عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوجاتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں احتیاط کو اکثر اضافی خرچ سمجھا جاتا ہے، جبکہ حادثے کے بعد ہونے والا نقصان کہیں زیادہ بھاری پڑتا ہے۔ ریلوے میں حفاظتی نظام کی بہتری، پٹریوں اور سگنلوں کی دیکھ بھال، عملے کی تربیت اور بروقت مرمت پر سرمایہ کاری بظاہر اخراجات ہیں، لیکن حقیقت میں یہی سرمایہ کاری انسانی جانیں بچاتی ہے۔ اسی طرح اسکولوں کی عمارتوں کا باقاعدہ معائنہ، تعمیراتی نقشوں کی منظوری، عمارت کی گنجائش کے مطابق طلبہ کا داخلہ اور خطرناک عمارتوں کو بروقت خالی کرانا انتظامی ذمہ داری ہے، کوئی اختیاری سہولت نہیں۔
پشاور کے سانحے نے نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی کے نظام کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ نجی اسکول قائم کرنا کاروبار ہوسکتا ہے، لیکن بچوں کی زندگیوں کی حفاظت کاروباری حساب کتاب کا معاملہ نہیں۔ والدین اپنی محدود آمدنی میں سے فیس ادا کرتے ہیں تاکہ ان کے بچے تعلیم حاصل کرسکیں۔ وہ یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ اسکول انتظامیہ عمارت کی مضبوطی، کلاس رومز کی گنجائش اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کو یقینی بنائے گی۔ اگر کسی عمارت میں اضافی تعمیرات کی گئی ہوں، اس کی بنیاد یا چھت مطلوبہ وزن برداشت کرنے کے قابل نہ ہو یا عمارت کو اسکول کے طور پر استعمال کرنے کے لیے ضروری منظوری حاصل نہ ہو تو یہ سوال لازماً اٹھنا چاہیے کہ متعلقہ معائنہ کرنے والے ادارے کہاں تھے؟
اس معاملے میں صرف اسکول کے مالک کو گرفتار کرنا کافی نہیں ہوگا۔ اگر تحقیقات میں تعمیراتی نقائص، غیر قانونی اضافی تعمیرات یا حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کیا جائے کہ عمارت کو استعمال کی اجازت کس نے دی، معائنہ کب ہوا، شکایات موصول ہوئی تھیں یا نہیں اور اگر کوئی خلاف ورزی موجود تھی تو اسے نظرانداز کیوں کیا گیا۔ کسی ایک شخص کو ذمہ دار قرار دے کر باقی نظام کو بری الذمہ کردینا اس وقت تک درست نہیں جب تک تمام متعلقہ پہلوؤں کی تحقیقات مکمل نہ ہوجائیں۔
یہی اصول ٹرین حادثے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ریلوے کے نظام میں اگر انسانی غلطی، تکنیکی خرابی، سگنلنگ کی ناکامی یا دیکھ بھال میں کوتاہی سامنے آئے تو اس کی نوعیت اور ذمہ داری واضح کی جائے۔ تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے، جہاں قومی سلامتی یا قانونی تقاضوں کے باعث کسی تفصیل کو محدود رکھنا ضروری نہ ہو۔ متاثرہ خاندانوں کو بتایا جائے کہ حادثہ کیسے پیش آیا اور آئندہ اس کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ محض یہ کہنا کہ تحقیقات جاری ہیں، اس وقت تک کافی نہیں جب تک ان تحقیقات کے نتائج عملی اصلاحات کی صورت میں سامنے نہ آئیں۔
حکومتوں کے لیے بھی یہ ایک اہم امتحان ہے۔ حادثے کے بعد اعلیٰ سطحی اجلاس بلانا، افسوس کا اظہار کرنا اور رپورٹ طلب کرنا اپنی جگہ اہم اقدامات ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب متعلقہ ادارے حادثے سے پہلے خطرے کی نشاندہی کرنے کے قابل ہوں۔ کیا ہر ضلع میں اسکولوں کی عمارتوں کا تازہ ریکارڈ موجود ہے؟ کیا کمزور عمارتوں کی فہرست تیار کی گئی ہے؟ کیا ریلوے کے اہم حفاظتی نظام کی جانچ کا شیڈول مرتب ہے؟ کیا معائنے کی رپورٹ پر عمل درآمد کی نگرانی ہوتی ہے؟ ان سوالات کا جواب اعدادوشمار، ریکارڈ اور زمینی اقدامات سے ملنا چاہیے۔
عوام بھی اب صرف اعلانات نہیں، نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ تحقیقات کب مکمل ہوں گی، ذمہ داری کس پر عائد ہوئی، متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور آئندہ حادثات روکنے کے لیے کتنا بجٹ مختص کیا گیا۔ اگر ہر سانحے کے بعد یہی سوال دوبارہ اٹھیں اور کئی ماہ گزرنے کے باوجود واضح جواب نہ ملے تو جواب دہی کا پورا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر حفاظتی قواعد پر عمل درآمد کے بجائے ان سے بچنے کے راستے تلاش کیے جاتے ہیں۔ کہیں معائنہ رسمی کارروائی بن جاتا ہے، کہیں ناقص تعمیرات کو نظرانداز کردیا جاتا ہے اور کہیں مرمت کے لیے مختص وسائل کے استعمال کی مؤثر نگرانی نہیں ہوتی۔ یہ تمام امکانات تحقیقات کے متقاضی ہیں، مگر کسی خاص حادثے میں ان کی موجودگی کا فیصلہ ثبوت کی بنیاد پر ہی ہونا چاہیے۔ شفافیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ نہ کسی کو بلاوجہ مجرم بنایا جائے اور نہ کسی بااثر فرد یا ادارے کو جواب دہی سے بالاتر سمجھا جائے۔
پشاور میں جانیں گنوانے والے بچے محض ایک خبر یا اعدادوشمار نہیں تھے۔ ان کے بھی خواب تھے، ان کے والدین نے ان کے مستقبل کے لیے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ کسی کا بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہوگا، کسی کا انجینئر، کسی کا استاد یا افسر۔ اب ان خاندانوں کے لیے تعلیمی کامیابیوں اور مستقبل کے خوابوں کی جگہ ایک ایسا خلا رہ گیا ہے جسے کوئی معاوضہ پْر نہیں کرسکتا۔ اسی لیے اس سانحے کو چند روزہ خبروں تک محدود کردینا
ان خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی حفاظتی آڈٹ کرایا جائے، خطرناک عمارتوں میں تدریسی سرگرمیاں معائنے اور ضروری مرمت تک روکی جائیں، ریلوے کے حفاظتی نظام کا آزادانہ جائزہ لیا جائے اور ہر متعلقہ ادارے کے لیے واضح اہداف اور مدت مقرر کی جائے۔ معائنے میں غفلت یا رپورٹ چھپانے پر ذمہ داری کا تعین بھی ہونا چاہیے۔ یہ اقدامات کسی ایک شہر یا صوبے تک محدود نہ رہیں، کیونکہ انسانی جانوں کا تحفظ پورے ملک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
حادثات کو ہمیشہ قسمت کا لکھا قرار دے کر بری الذمہ نہیں ہوا جاسکتا۔ قدرتی آفات اور ناقابلِ پیش گوئی واقعات اپنی جگہ، لیکن جہاں حفاظتی انتظامات، معائنہ، دیکھ بھال اور نگرانی سے نقصان روکا جاسکتا ہو، وہاں غفلت کو تقدیر کا نام دینا درست نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں کرنا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا بھی ہے جن میں حادثے کا امکان کم سے کم ہو۔
ٹرین حادثے کے بعد پشاور کے اسکول کی چھت گرنے کا سانحہ ہمیں خبردار کررہا ہے کہ اب رسمی بیانات سے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ حکومت، انتظامیہ، ریلوے حکام، تعلیمی اداروں کے نگران اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ تمام متعلقہ فریقوں کو اپنی ذمہ داریوں کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔ اگر آج بھی صرف کمیٹیاں بنیں، رپورٹس تیار ہوں اور پھر فائلیں بند ہوجائیں تو کل کسی اور شہر سے کسی اور حادثے کی خبر آسکتی ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ حادثہ کیسے ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ اسے روکنے کے لیے پہلے کیا کیا گیا تھا، اور اگر کچھ نہیں کیا گیا تو اس کا جواب کون دے گا؟ جب تک اس سوال کا واضح جواب، شفاف تحقیقات اور قابلِ پیمائش اصلاحات سامنے نہیں آتیں، عوام کے ذہنوں میں یہی سوال برقرار رہے گا کہ ملک میں انسانی جانوں کا تحفظ آخر کس کی ترجیح ہے؟
مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ موجودہ دور میں کسی بھی ملک کی سلامتی صرف اس کی اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران پورے خطے کے امن، تجارت، معیشت اور مذہبی و انسانی مراکز کی سلامتی...
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں افریقہ ایک ایسا خطہ ہے جس کی معاشی اہمیت آنے والے برسوں میں مزید بڑھنے والی ہے۔ دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی معاشی ترجیحات، نئی منڈیاں، وسیع قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے امکانات نے افریقہ کو عالمی معیشت کے اہم مراکز میں شامل کردیا...
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ اقوام متحدہ پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور عالمی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، محض ایک ایرانی سفارت کار کا بیان نہیں بلکہ موجودہ عالمی نظام کے بارے میں اٹھنے والے ایک بڑے سوال کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ آج دنیا کے مختلف...
مکہ مکرمہ صرف سعودی عرب کا ایک شہر نہیں، یہ کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کا مرکز ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والا مسلمان جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہوتا ہے۔ حج اور عمرہ کے لیے مکہ پہنچنے والا ہر شخص اپنے ساتھ...