ہمارے معاشرے میں عورت کی کامیابی کا اعتراف کرنے سے پہلے اس کی اہلیت پر سوال اٹھانا ایک عام رویّہ بنتا جا رہا ہے۔ کسی خاتون کو اعزاز ملے، کسی ادبی محفل میں نمایاں مقام دیا جائے یا اس کی خدمات کو سراہا جائے تو بعض حلقوں سے فوراً آواز آتی ہے: ’’عورت ہے، اس لیے نوازا گیا ہے!‘‘
یہ چند الفاظ نہیں، ایک پوری ذہنیت کا اظہار ہیں؛ ایسی ذہنیت جو عورت کی محنت کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کی کامیابی کو جنس کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مرد کو اعزاز ملے تو اس کی قابلیت پر بات ہوتی ہے، لیکن عورت کو اعزاز ملے تو اس کی جنس کیوں زیرِ بحث آ جاتی ہے؟ کیا عورت ہونا اس کی محنت، ذہانت اور صلاحیت کو مشکوک بنا دیتا ہے؟
اعزاز کی قدر یا عورت کی تضحیک؟
اعزاز کسی فرد کی خدمات اور کارکردگی کا اعتراف ہوتا ہے، کسی کی جنس کی سند نہیں۔ لیکن جب کسی خاتون کو ملنے والی سند کو طنزاً ’’سندِ نسواں‘‘ کہا جائے تو اس کی برسوں کی محنت کو ایک جملے میں بے وقعت کر دیا جاتا ہے۔
عورت سے کہا جاتا ہے کہ تعلیم حاصل کرو، آگے بڑھو اور اپنی شناخت بناؤ، لیکن جب وہ کامیاب ہوتی ہے تو اس کی کامیابی کے پیچھے قابلیت کے بجائے سفارش اور رعایت تلاش کی جاتی ہے۔
وہ آگے بڑھے تو سوال، پیچھے رہے تو نااہل، اپنی بات کرے تو مغرور اور کامیاب ہو جائے تو کسی کی منظورِ نظر!
آخر عورت کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لیے کتنی بار کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا؟
عورت کو رعایت نہیں، منصفانہ اعتراف چاہیے
خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنا اور کسی خاتون کو محض عورت ہونے کی وجہ سے اعزاز دینا دو الگ باتیں ہیں۔ کسی بھی ایوارڈ کا معیار قابلیت، خدمات، دیانت اور کارکردگی ہونا چاہیے۔
اگر کسی انتخاب میں سفارش یا جانبداری ہوئی ہے تو اس پر ضرور سوال اٹھائیے، خواہ اعزاز پانے والا مرد ہو یا عورت۔ لیکن کسی خاتون کی کامیابی کو محض اس کی جنس کی بنیاد پر مشکوک قرار دینا بھی تعصب ہے۔
عورت کو غیر مستحق رعایت نہیں چاہیے، اسے اپنے استحقاق کے باوجود تحقیر سے تحفظ چاہیے۔ میرٹ کا تقاضا ہے کہ سب کو ایک ہی پیمانے پر پرکھا جائے، نہ کہ عورت کے لیے الگ سے شک کا ترازو رکھا جائے۔
پاکستان کی عورت: گھر سے اداروں تک ایک طویل سفر
پاکستان میں بہت سی خواتین کے لیے تعلیم مکمل کرنا، گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ عملی زندگی میں قدم رکھنا اور اپنی شناخت قائم کرنا آسان نہیں۔ وسائل کی کمی، سماجی پابندیاں اور محدود مواقع ان کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
ان مشکلات کے باوجود کوئی خاتون صحافت، ادب، تحقیق، تعلیم یا کسی دوسرے شعبے میں مقام حاصل کرتی ہے تو اس کے پیچھے محنت اور جدوجہد کی ایک طویل داستان ہوتی ہے۔ ایک سند اس جدوجہد کا مکمل احاطہ نہ سہی، اس کے اعتراف کی علامت ضرور ہو سکتی ہے۔
پھر اس اعتراف کو طنز میں بدلنے کا حق کس نے دیا؟ اگر عورت کی کامیابی بھی مشکوک ہے تو اس کے لیے کامیابی کا قابلِ قبول راستہ آخر کون سا ہے؟
ادبی دنیا میں یہ رویّہ اور بھی پیچیدہ ہے
ادب میں تخلیق کی قدر اس کے خیال، اسلوب، مطالعے اور فنی معیار سے ہونی چاہیے، تخلیق کار کی جنس سے نہیں۔ مگر بعض ادبی حلقوں میں شاعرہ کے کلام سے پہلے اس کی موجودگی، ادیبہ کی خدمات سے پہلے اس کے انتخاب اور خاتون کے اعزاز سے پہلے اس کی اہلیت پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔
کسی شاعرہ کا کلام کمزور ہے تو فنی خامیاں بیان کیجیے، کسی ادیبہ کی تحقیق ناقص ہے تو دلیل دیجیے، کسی ایوارڈ کا انتخاب جانبدارانہ ہے تو شواہد سامنے لائیے۔ لیکن صرف یہ کہہ دینا کہ ’’عورت ہے، اس لیے نوازا گیا‘‘ نہ تنقید ہے، نہ علمی اختلاف؛ یہ تعصب کو تنقید کا لباس پہنانا ہے۔
ادب میں اختلاف کیجیے، مگر کسی عورت کی جنس کو اس کی تخلیقی صلاحیت کے خلاف ہتھیار نہ بنائیے۔
کیا ہر عورت کا اعزاز درست ہے؟
یقیناً ہر اعزاز مستحق فرد کو نہیں ملتا۔ سفارش، اقربا پروری اور جانبداری کہیں بھی ہو سکتی ہے، لیکن یہ خرابیاں کسی ایک جنس کی میراث نہیں۔
اگر مرد کو غیر مستحق ہونے کے باوجود اعزاز ملے تو سوال اٹھائیے، عورت کو ملے تو اس پر بھی تحقیق کیجیے۔ اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ انتخاب کن اصولوں کے تحت ہوا اور امیدوار کی خدمات کیا تھیں۔
مسئلہ عورت کو اعزاز دینے کا نہیں، اعزاز دینے کے معیار کا ہے۔ جنس کو ثبوت بنا کر کسی فیصلے کو غلط قرار دینا انصاف نہیں، جبکہ دلیل اور شواہد کی بنیاد پر احتساب ہر ایک کا حق ہے۔
عورت کو ہر کامیابی کے بعد صفائی کیوں دینی پڑے؟
عورت کو اعزاز ملنے پر بعض حلقے اس کی قابلیت ہی نہیں، اس کے کردار کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ کبھی اس کی کامیابی کو ذاتی تعلقات کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی اسے مقام دینے والے کی نیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ یوں عورت کی محنت پس منظر میں چلی جاتی ہے اور اس کی ذات تماشائے بحث بن جاتی ہے۔
عورت کو اعزاز ملے تو اس کی اہلیت مشکوک، اس کی حوصلہ افزائی ہو تو اس کے کردار پر انگلی، اور اسے مقام دینے والے کی نیت بھی مشتبہ! آخر یہ کیسا انصاف ہے؟
کیا کسی خاتون کی پذیرائی لازماً کسی پوشیدہ تعلق یا ذاتی مفاد کا نتیجہ ہوتی ہے؟ اگر کسی فیصلے پر اعتراض ہے تو ثبوت پیش کیجیے۔ بغیر ثبوت کردار پر حملہ کرنا تنقید نہیں، کردار کشی ہے؛ اور کسی کی نیت پر محض قیاس آرائی کرنا دلیل کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
کسی عورت کی عزت اور کامیابی کو بدگمانی کی نذر کرنا اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو عورت کو برابری کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ عورت کو اپنے کام کے ساتھ اپنے کردار کی صفائی بھی کیوں دینی پڑے، جبکہ اس کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہ ہو؟
قابلیت کا فیصلہ کام سے ہونا چاہیے، صنف سے نہیں؛ اور کردار پر الزام دلیل مانگتا ہے، محض شک نہیں۔
سندِ اعزاز کو سندِ نسواں بنانے والے کون ہیں؟
’’سندِ نسواں‘‘ کی طنزیہ ترکیب اس وقت سامنے آتی ہے جب کسی خاتون کو ملنے والا اعتراف اس کی خدمات کے بجائے اس کی جنس سے منسوب کر دیا جائے۔ گویا اسے اس کے کام کی نہیں، عورت ہونے کی سند دی گئی ہو۔
اگر اعزاز غلط بنیادوں پر دیا گیا ہے تو اس غلطی کو ثابت کیجیے۔ لیکن اگر کسی خاتون نے محنت سے مقام حاصل کیا ہے تو اس کی کامیابی کو محض طنز سے رد کرنا کس منطق کی نمائندگی کرتا ہے؟
کسی عورت کو اعزاز ملنا انتخاب کے درست ہونے کی ضمانت نہیں، مگر اس کی عورت ہونا انتخاب کے غلط ہونے کا ثبوت بھی نہیں۔
جو لوگ عورت کے اعزاز پر سوال اٹھاتے ہیں، انہیں پورا حق ہے؛ لیکن ان کے اعتراضات بھی دلیل اور شواہد کے پابند ہونے چاہییں۔ احتساب کے نام پر عورت کی تحقیر اور تنقید کے نام پر کردار کشی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
عورت کی حوصلہ افزائی، معاشرے کی ترقی
مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں عورت کو ہر حال میں اعزاز دیا جائے، بلکہ وہ ہے جہاں عورت اور مرد دونوں کو یکساں معیار پر پرکھا جائے۔ جہاں غلط فیصلے پر سوال اٹھانے کی آزادی ہو اور درست فیصلے کو تعصب کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔
خواتین کی حوصلہ افزائی مردوں کی حق تلفی نہیں۔ کسی خاتون کی کامیابی کسی مرد کی ناکامی نہیں، اور کسی عورت کو مقام دینے سے کسی دوسرے کی صلاحیت کم نہیں ہو جاتی۔
پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہماری بیٹیوں کو تعلیم، تحفظ اور مواقع میسر ہوں، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو عملی کامیابی میں بدل سکیں۔ انہیں یہ خوف نہ ہو کہ نمایاں ہونے پر ان کے کام سے زیادہ ان کی جنس اور کردار زیرِ بحث آئیں گے۔
آخری سوال: عورت ہونا جرم ہے یا قابلیت سے الگ ایک حقیقت؟
اب وقت آ گیا ہے کہ عورت کی کامیابی کو تعصب کے بجائے قابلیت کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ اگر اعزاز مستحق کو ملا ہے تو اعتراف کیجیے؛ اگر انتخاب غلط ہے تو ثبوت کے ساتھ سوال اٹھائیے۔ لیکن عورت ہونے کو نااہلی کا ثبوت نہ بنائیے۔
عورت کو اس لیے نہ نوازا جائے کہ وہ عورت ہے، اور نہ اس لیے محروم رکھا جائے کہ وہ عورت ہے۔ اسے اس کی قابلیت، محنت، دیانت اور
خدمات کے مطابق مقام ملنا چاہیے۔ یہی انصاف ہے، یہی میرٹ ہے۔
یہ معاملہ صرف اس خاتون کا نہیں جسے آج اعزاز ملا ہے، بلکہ اس لڑکی کے مستقبل کا بھی ہے جو کل کسی ادارے میں اپنی جگہ بنانا، کتاب لکھنا، تحقیق کرنا یا کسی شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہے گی۔ اگر آج اس کی کامیابی کو جنس کے کھاتے میں ڈال کر رد کیا گیا تو کل اس کے حوصلے اور امکانات بھی اسی تعصب کی زد میں آئیں گے۔
جو لوگ ہر کامیاب عورت کے اعزاز کو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ ’’عورت ہے، اس لیے نوازا گیا‘‘، ان سے میرا سوال ہے:
اگر عورت میں قابلیت نہیں، تو اس کے کام پر دلیل کے ساتھ بات کرنے کے بجائے اس کی جنس کو موضوع کیوں بنایا جاتا ہے؟ اور اگر اسے اعزاز دینے والے نے کوئی غلطی کی ہے تو ثبوت کے بجائے اس کی نیت پر حملہ کیوں کیا جاتا ہے؟
ہمیں ’’سندِ نسواں‘‘ کے طنز سے آگے بڑھ کر سندِ اعزاز کے معیار پر بات کرنا ہوگی۔ عورت کی کامیابی کو جنس، اس کے کردار کو قیاس آرائی اور اس کی حوصلہ افزائی کو بدگمانی کی نذر کرنا انصاف نہیں۔
یاد رکھیے، عورت کی قابلیت کو جنس میں تولنے والا معاشرہ کسی ایک عورت کی نہیں، اپنے ہی انصاف، فکری دیانت اور اخلاقی معیار کی تذلیل کرتا ہے۔
شاعری صرف لفظوں کا خوب صورت لباس نہیں، یہ احساس کی وہ آواز ہے جو ہر شاعر کے ہاں اپنا لہجہ اختیار کر لیتی ہے۔ ایک ہی خیال کسی شاعر کے ہاں محبت بن کر اترتا ہے، دوسرے کے ہاں احتجاج بن جاتا ہے، تیسرے کے ہاں فلسفہ، چوتھے کے ہاں طنز اور پانچویں کے...
سچ بولنے والے سے سبھی توڑ کے رشتے جھوٹے کی طرف بڑھتے قدم دیکھ رہا ہوں نظام نوشاہی سنبھلی ہمیں سچ سے کوئی خاص دشمنی نہیں، بس شرط یہ ہے کہ سچ ہمارے خلاف نہ ہو۔ ہم سچائی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، محفلوں میں حق گوئی کے قصے سناتے ہیں، ادب میں اعلیٰ...
کبھی سوچا تھا کہ ایک دن ہم اپنے موبائل کی اسکرین پر خود کو دیکھیں گے اور چند لمحوں کے لیے حیران رہ جائیں گے کہ یہ تصویر ہماری ہے یا ہمارے والدین کے زمانے کی؟ لیکن 2026 نے یہ حیرت بھی ممکن کر دکھائی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک دلچسپ اور تیزی...
ایک بچی جب دنیا میں آتی ہے تو وہ صرف ایک گھر کی بیٹی نہیں ہوتی، وہ پورے معاشرے کی امانت ہوتی ہے۔ اس کی ہنسی گھر کی رونق، اس کے خواب مستقبل کی امید اور اس کا محفوظ بچپن معاشرے کی تہذیبی صحت کی علامت ہوتا ہے۔ مگر جب یہی معصوم بچیاں جنسی تشدد...