پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں کی صورتحال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ملک کی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان تعلقات مثالی ہوں۔ ماضی میں پاکستان کو ایسی صورتحال کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا جب دونوں جانب معاملات انتہائی حساس صورت اختیار کر چکے ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں اور بہترین حکمت عملی کے بعد پہلی مرتبہ یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے کہ عالمی سپر پاور امریکا پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کرنے کے بجائے پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان سے انخلاء کی پالیسی ترتیب دے رہا ہے۔ افغانستان کے مسئلے کے حل کی جانب جاتے ہوئے سب سے زیادہ مسائل کا سامنا پاکستان کو ہے۔وہ تمام قوتیں جو افغانستان میں امن قائم ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی ہیں وہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ اس نازک مرحلے پرجب بھارت جو تمام تر کوششوں کے باوجود افغان مسئلے کے حل میں کسی بھی قسم کا کردار حاصل کرنے سے محروم ہو چکا ہے اور اس کے علاوہ عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی اس کی کوششیں بھی ناکامی کا شکار ہو چکی ہیں تو اس نے داخلی طور پراپنی سبکی سے بچنے کے لیے مسئلہ کشمیر کو ایک مرتبہ پھر زندہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت یکطرفہ طور پر ختم کرکے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔پاکستان جو پہلے ہی افغان مسئلے کے حل کے لیے پھونک پھونک کر ایک ایک قدم اُٹھا رہا ہے تاکہ اس دیرینہ مسئلے کا کوئی پائیدار حل نکل سکے اس کی ان کوششوں کو متاثر کرنے کے لیے مودی نے جوچال چلی ہے اس کاتوڑ کر نے کیلئے پاکستان نے ہر سطح پر بھر پور کاررائیوں کا فوری آغاز کردیا تھا۔سفارتی سطح پر پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں 50 سال بعدمسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہونا اس بات کا شاہد ہے کہ پاکستان درست سمت میں گامزن ہے۔
بھارتی اشتعال انگیزیوں اور خطے میں پیدا ہونے والی جنگی کیفیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان جہاں عالمی سطح پر اپنی ذمہ دارانہ پوزیشن کو واضح کرنے کے لیے وہیں داخلی طور پر بھی بعض ایسے اقدامات ناگزیر ہوچکے تھے جن کے حوالے سے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔وزیراعظم عمران خان نے علاقائی سلامتی کی صورتحال اور خطہ میں امن کی کوششوں کا تسلسل جاری رکھنے کے لئے اپنا آئینی اور صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کے لئے چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا جو بروقت فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی دانشمندانہ ہے۔ بڑھتی ہوئی پاک بھارت کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے طویل عرصہ بعد ایک بار پھر جو پیش رفت شروع ہوئی ہے اس کے تناظر میں یہ فیصلہ دور رس نتائج کا حامل قرار دیا جائے گا۔ موجودہ صورتحال میں دنیا کو یہ واضح پیغام دینا ضروری تھا کہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت تسلسل اور یکسوئی کے ساتھ ایک پیج پر ہے۔ یہ حقیقت ملحوظ رکھنی چاہئے کہ جموں و کشمیر اور خطے کے حالات نیز افغانستان میں جاری امن عمل کے پیش نظر دنیا کی نظریں اس وقت پاکستان پر لگی ہوئی ہیں جو ایک ایٹمی قوت ہے اور اسے ایک ایٹمی قوت بھارت کی جانب سے جارحانہ عزائم کا سامنا ہے۔ افغانستان میں تین عشروں سے جاری جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان اس ضمن میں اپنا کردار کسی رکاوٹ کے بغیر ادا کرتا رہے، ایسے میں اس کی مشرقی سرحدوں پر جنگ کا خطرہ دنیا کے لئے تشویش کا باعث ہے۔موجودہ صورتحال حالت جنگ میں تبدیل ہوتی جارہی ہے جس سے فوجی کمان کے تسلسل کے ساتھ ہی نمٹا جا سکتاہے۔ اس لحاظ سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ایک دور اندیشانہ فیصلہ ہے، جنرل باجوہ کی قیادت میں پاک فوج نے سرحدوں کے دفاع اور آپریشن ردالفساد کے تحت دہشت گردی پر قابو پانے کے علاوہ عسکری سفارت کاری، اسلحہ سے پاک معاشرے کے فروغ، پائیدار امن کے قیام، ترقی کے لئے بلوچستان کو مرکزی حیثیت دینے، کے پی میں فاٹا کے انضمام، افغان سرحد پر باڑ کی تعمیر سمیت کئی قابل ستائش اقدامات کئے ہیں وہ نومبر 2022تک فوج کے سربراہ رہیں گے۔
عالمی دارالحکومتوں میں تنازع کشمیر اب سرد خانوں سے نکل کر سڑکوں پر آ گیا ہے۔دنیا بھر میں کشمیری عوام کے حق میں زبردست مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی حالات بھارتی فوج کے بس سے باہر ہو رہے ہیں جس پر مودی سرکار نے وہاں تشدد آمیز سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ پچھلے دو ہفتے میں 6ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، ان حالات میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس لئے حکومت اپوزیشن اور فوج کا ایک پیج پر ہونا انتہائی ضروری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ 9ستمبر کو عالمی انسانی حقوق کمیشن میں بھی اٹھایا جائے گا۔ 9 ستمبر کو جنیوا میں ہونے والے انسانی حقو ق کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستان کی سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ جنیوا روانہ ہوگئی ہیں، تہمینہ جنجوعہ کشمیریوں کی تحریک کے حق میں راہ ہموار کریں گی اور بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رکن ممالک سے بات چیت کریں گی۔ فرانس نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایو لودریان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت خطے میں امن و امان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔شاہ محمود قریشی نے فرانسیسی وزیر خارجہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور 5 اگست سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل کرفیو نافذ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی عروج پر ہیں جس سے دنیا لاعلم ہے۔دنیاکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کررہی ہے اور متنازع معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیاجا رہاہے۔اس ماہ کے اوائل میں جب سے مودی حکومت نے نئی دہلی کے زیرانتظام جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور اپنے زیر انتظام اس خطے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے انہیں بھارت کے یونین علاقے بنا دینے کا فیصلہ کیا ہے، تب سے اب تک خود بھارتی حکومتی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق کم از کم بھی چار ہزار کشمیری سیاستدانوں، سماجی رہنماوں اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ کشمیر میں عوامی نقل و حرکت کی آزادی بھی تاحال انتہائی محدود ہے جبکہ وادی میں ہر قسم کیمواصلاتی رابطوں کی دستیابی کے حوالے سے بھی ایک ‘بلیک آوٹ‘ نافذ کیا جا چکا ہے۔ اس صورت حال کو کئی بین الاقوامی ماہرین علاقائی اور عالمی سطح پر شدید تشویش کی وجہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ان حالات میں واشنگٹن میں امریکی دفتر خارجہ کے ذرائع نے کہا ہے، ”ہمیں کشمیر میں بے تحاشا گرفتاریوں، نقل و حرکت کے انتہائی محدود کیے جانے اور خطے کے عوام پر لگائی جانے والی پابندیوں پر گہری تشویش ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پر ثالثی کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کروں گا۔ کشمیر کا معاملہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں اٹھا?ں گا۔واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہناتھا کہ وزیراعظم عمران خان سے حال ہی میں ملاقات ہوئی جبکہ بھارتی وزیراعظم مودی سے رواں ہفتے فرانس میں ملاقات ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر دیرینہ اور بہت پیچیدہ مسئلہ ہے جو کہ دہائیوں سے چل رہا ہے، سچ پوچھیں تو وہاں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے، کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائیاں ہو چکی ہیں، میں بھرپور کوشش کروں گا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو۔پاک بھارت وزرائے اعظم سے متعلق امریکی صدر نے کہا کہ میری عمران خان اور نریندر مودی دونوں سے بات ہوئی ہے، دونوں میرے دوست ہیں اور ان سے اچھے تعلقات بھی ہیں لیکن ان کی آپس میں دوستی نہیں ہے۔ 16اگست کو وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے پھر رابطہ کیا اور انہیں جارحانہ بھارتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے مودی سرکار پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لئے کہا۔ صدر ٹرمپ نے پیر کی رات پہلے نریندر مودی اور بعد میں عمران خان سے براہ راست ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ان پر زور دیا کہ دونوں ملک کشیدگی کا خاتمہ کریں اور امن قائم رکھیں۔ واشنگٹن میں وائٹ ہا?س کے ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ نے تقریباً آدھ گھنٹہ تک بھارتی وزیراعظم مودی سے بات کی اور ان پر زور دیا کہ خطے کا امن برقرار رہنا چاہئے اور موجودہ کشیدگی کم کرنے کے لئے اقدامات کئے جانا چاہئیں۔کہا جا رہا ہے کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ عالمی عدالت میں لے جانے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔یہ فیصلہ بھارتی آئین میں ترمیم کے تمام قانونی پہلو?ں کا جائزہ لینے کے بعدکیا گیا ہے۔یہ قدم کب اُٹھایا جائے گا اس کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کا مقدمہ لڑے گا، عالمی برادری کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔ وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے جارہے ہیں توقع کی جارہی ہے کہ اس سے قبل پاکستان عالمی سطح پر اپنا ہوم ورک اتنا مکمل کر لے گا کہ بھارت کو جنرل اسمبلی کے موقع پرشدید دبائوکا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستان پر منڈلاتے ہوئے جنگی خطرات سے نمٹنے کے لیے عسکری قیادت کی تبدیلی کو موئخر کرتے ہوئے پاکستان نے بھارت اور عالمی برادری کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کی نہ صرف پوری صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اس حوالے سے انتہائی سنجیدہ نوعیت کے اقدامات پر عمل درآمد کا آغاز بھی کرچکا ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح کے شہر کراچی کا لگتا ہے کوئی بھی پرسانِ حال نہیں ہے۔اس شہرِ لاوارث کی سڑکیں کل تک کچرے سے بھری ہوئی تھیں۔ملک کو 70فیصد ریونیو دینے والا شہر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہا تھا اورہمارے ارباب اختیار ایک دوسرے پر اختیارات کی چھینا جھپٹی کا الزام لگا کر...
ملک میں حادثات کی ایک کے بعد دوسری خبر آتی ہے، چند لمحوں کے لیے فضا سوگوار ہوتی ہے، حکمران تعزیت کرتے ہیں، متعلقہ ادارے تحقیقات کا اعلان کرتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں اور پھر زندگی معمول کے مطابق چلنے لگتی ہے۔ مگر جن گھروں کے چراغ بجھ جاتے ہیں، جن...
اطلاع ہے کہ جنوری 2027 میں کراچی کی 20 اہم سڑکیں کھود دی جائیں گی۔ خبر سنتے ہی کراچی والوں کے دلوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ جانی چاہیے، آخر نئے سال کا آغاز نئے منصوبوں، نئی کھدائیوں اور نئے گڑھوں کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ شہر میں ترقی کا سفر جاری ہے،...
ہمارے معاشرے میں عورت کی کامیابی کا اعتراف کرنے سے پہلے اس کی اہلیت پر سوال اٹھانا ایک عام رویّہ بنتا جا رہا ہے۔ کسی خاتون کو اعزاز ملے، کسی ادبی محفل میں نمایاں مقام دیا جائے یا اس کی خدمات کو سراہا جائے تو بعض حلقوں سے فوراً آواز آتی ہے: ’’عورت ہے، اس...