ہماری قوم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہم کسی بھی موضوع پر گفتگو کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ موضوع چاہے ملکی معیشت ہو، عالمی سیاست، تعلیم، صحت، کھیل، سائنس یا چاند پر آبادی بسانے کا منصوبہ، ہمارے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ بس ایک چھوٹی سی مشکل ہے کہ یہ حل گفتگو کی میز سے اٹھ کر عملی دنیا میں آنے سے گھبراتے ہیں۔ ہم منصوبے ایسے بناتے ہیں جیسے کل صبح ہی ملک کی تقدیر بدل دیں گے، لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابھی چائے نہیں آئی، فائل مکمل نہیں ہوئی اور متعلقہ صاحب میٹنگ میں مصروف ہیں۔
ہمارے ہاں بات کرنا ایک فن ہے اور کام کرنا ایک اضافی ذمہ داری۔ بات کرنے کے لیے نہ کسی مشین کی ضرورت ہے، نہ بجلی کی، نہ بجٹ کی اور نہ ہی کسی منظوری کی۔ بس زبان سلامت ہو، سامنے کوئی سننے والا موجود ہو اور وقت گزارنے کا مناسب انتظام ہو تو گھنٹوں کی گفتگو چند منٹوں میں شروع ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس کام کرنے کے لیے نیت، محنت، وقت، منصوبہ بندی اور جواب دہی درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ پانچ چیزیں ہیں جن سے ہم عموماً فاصلہ رکھنا پسند کرتے ہیں۔
ایک صاحب سے پوچھا کہ جناب! آپ نے زندگی میں کیا کارنامہ انجام دیا؟ فرمانے لگے، ’’میں نے بہت کچھ سوچا ہے۔‘‘ ہم نے عرض کیا کہ کوئی کام بھی کیا ہے؟ بولے، ’’کام تو بہت ہیں، لیکن ابھی حالات سازگار نہیں۔‘‘ معلوم ہوا کہ ان کے حالات گزشتہ بیس برس سے سازگار ہونے کی تیاری کررہے ہیں، مگر حالات کو شاید کسی نے بتایا ہی نہیں کہ ان کی تیاری مکمل ہوچکی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ہر شخص اصلاح کا خواہش مند ہے، بشرطیکہ اصلاح کا آغاز کسی دوسرے سے ہو۔ گھر میں صفائی نہیں تو حکومت ذمہ دار، محلے میں کوڑا پڑا ہے تو بلدیہ قصوروار، دفتر میں کام نہیں ہورہا تو افسر نااہل اور ملک ترقی نہیں کررہا تو سبھی اداروں کو اپنی ذمہ داری یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ اپنے حصے کا کام کرنے کا سوال آئے تو ہماری دلیلیں بھی قطار باندھ کر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ جب سب ٹھیک ہوجائے گا تو ہم بھی ٹھیک ہوجائیں گے۔ گویا ہم انسان نہیں، حالات کے ہاتھوں مجبور کوئی ایسی مشین ہیں جس کا سوئچ ہمیشہ کسی دوسرے کے پاس رہتا ہے۔
دفاتر میں اس فن کی باقاعدہ تربیت دی جاسکتی ہے۔ ایک فائل میز پر آتی ہے تو اس کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔ پہلے صاحب کے پاس جائے گی، پھر دوسرے صاحب کے پاس، پھر تیسرے صاحب کے پاس۔ ہر صاحب اسے غور سے دیکھے گا، چند صفحات الٹے گا، قلم اٹھائے گا اور آخر میں لکھ دے گا: ’’ضروری کارروائی کے لیے متعلقہ شعبے کو بھیجا جائے۔‘‘ متعلقہ شعبہ تلاش کرتے کرتے سائل کی امیدیں بوڑھی ہوجاتی ہیں، مگر فائل جوان رہتی ہے۔ اسے نہ مہنگائی پریشان کرتی ہے، نہ بجلی کے بل کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی گھر کے اخراجات کا مسئلہ۔ میز سے میز تک اس کا سفر جاری رہتا ہے اور ہر میز پر اسے نئی زندگی ملتی ہے۔
اگر کبھی کوئی پوچھ بیٹھے کہ کام کیوں نہیں ہوا تو جواب تیار ہے: ’’ہم نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔‘‘ یہ جملہ اتنی مہارت سے ادا کیا جاتا ہے کہ سننے والا اپنی ہی غلط فہمی پر شرمندہ ہوجائے۔ اسے لگتا ہے شاید کام ہوگیا تھا، اسے ہی خبر نہیں ہوئی۔
سیاست میں بھی باتوں کے بادشاہوں کی کمی نہیں۔ انتخابی موسم آئے تو وعدوں کی ایسی بہار آتی ہے کہ لگتا ہے ہر گلی میں ترقی کے پھول کھلنے والے ہیں۔ کہیں سڑکیں بننے کا اعلان، کہیں اسپتالوں کی تعمیر، کہیں روزگار کے مواقع اور کہیں تعلیم کے نئے دور کی نوید۔ جلسے میں تالیاں بجتی ہیں، نعرے لگتے ہیں اور مستقبل روشن دکھائی دینے لگتا ہے۔ پھر انتخابات گزر جاتے ہیں۔ عوام اپنے مسائل کے ساتھ وہیں رہتے ہیں اور وعدے اگلے انتخاب کے لیے محفوظ کرلیے جاتے ہیں۔ یوں وعدوں کی عمر بھی ہمارے ہاں خاصی طویل ہوتی ہے، بس ان کی تکمیل کی تاریخ اکثر نامعلوم رہتی ہے۔
ہماری ایک اور خوبی یہ ہے کہ ناکامی کی صورت میں ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اس کی ذمہ داری کسی اور کے کھاتے میں ڈالنے میں دیر نہیں لگاتے۔ منصوبہ کامیاب ہوجائے تو کریڈٹ لینے والوں کی قطار لگ جاتی ہے، ناکام ہوجائے تو سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ کبھی وسائل کم تھے، کبھی وقت نامناسب تھا، کبھی ٹیم نے تعاون نہیں کیا اور کبھی حالات نے ساتھ نہیں دیا۔ یوں ناکامی بھی بے چارگی کے ساتھ اپنی جگہ کھڑی رہتی ہے اور ذمہ دار شخص اطمینان سے اگلے منصوبے کا اعلان کردیتا ہے۔
گھروں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ والد صاحب بچوں کو وقت کی پابندی کا درس دیتے ہیں، مگر خود کسی تقریب میں دو گھنٹے تاخیر سے پہنچتے ہیں۔ ہم بچوں کو سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں، لیکن فون پر کسی سے کہلوا دیتے ہیں کہ صاحب گھر پر نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچے کتابیں پڑھیں، مگر انہیں خود ہمیں موبائل کی اسکرین سے نظریں اٹھاتے دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔ ہم نئی نسل کو مثالی شہری بنانا چاہتے ہیں، لیکن اپنی مثال قائم کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ پھر شکایت کرتے ہیں کہ آج کل کے بچوں میں پہلے جیسی تربیت نہیں رہی۔
ہمارے ہاں مشورہ دینا بھی قومی خدمت سمجھا جاتا ہے۔ کوئی کاروبار شروع کرے تو دس افراد اسے بتائیں گے کہ کون سا کاروبار کرنا چاہیے۔ کوئی شادی کرے تو مشوروں کی بارش، کوئی مکان بنائے تو نقشے سے لے کر رنگ تک ہر چیز پر رائے حاضر۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشورہ دینے والوں میں سے اکثر نے نہ وہ کاروبار کیا ہوتا ہے، نہ ایسا مکان بنایا ہوتا ہے اور نہ ہی اپنی زندگی کے تمام معاملات مثالی انداز میں چلائے ہوتے ہیں۔ لیکن دوسروں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ان کے پاس مکمل منصوبہ موجود ہوتا ہے۔ اپنی زندگی کا منصوبہ البتہ ابھی زیر غور ہوتا ہے۔
اس ساری صورت حال میں سب سے زیادہ قابلِ رحم وہ شخص ہے جو خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ نہ اسے اپنی تعریف کے لیے مائیکروفون چاہیے، نہ ہر قدم پر اعلان کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی وہ معمولی کام کو تاریخی کارنامہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ وہ وقت پر پہنچتا ہے، اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے اور غلطی ہوجائے تو اسے درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی آواز اکثر شور میں دب جاتی ہے۔ ہم کام کرنے والے سے زیادہ کام کا اعلان کرنے والے کو اہمیت دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں بعض اوقات تشہیر کا حجم کارکردگی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
لیکن باتوں کی اہمیت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ گفتگو، منصوبہ بندی اور مشورہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بات عمل کی جگہ لے لیتی ہے اور منصوبہ بندی خود ایک مستقل سرگرمی بن جاتی ہے۔ اجلاس پر اجلاس ہوتے رہتے ہیں، کمیٹیاں بنتی رہتی ہیں اور سفارشات مرتب ہوتی رہتی ہیں، مگر اصل مسئلہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ ترقی صرف یہ بتانے سے نہیں ہوتی کہ ہم کیا کرنے والے ہیں، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ ہم نے حقیقت میں کیا کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس قومی عادت کا علاج کیا ہے؟ اس کا نسخہ بہت مشکل نہیں۔ اپنے حصے کا کام وقت پر کیا جائے، وعدہ وہی کیا جائے جسے پورا کرنے کی سنجیدہ کوشش ممکن ہو، غلطی کی ذمہ داری قبول کی جائے اور کارکردگی کو دعوؤں کے بجائے نتائج سے جانچا جائے۔ گھروں میں والدین خود مثال قائم کریں، دفاتر میں کام کی تکمیل کی جواب دہی ہو اور عوامی عہدوں پر فائز افراد کے وعدوں اور عملی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر کام کسی دوسرے کے کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ گلی میں کچرا پھینکنے سے گریز کرنا، قطار کی پابندی کرنا، وقت پر پہنچنا، اپنی ذمہ داری پوری کرنا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی عملی تبدیلی کی مثالیں ہیں۔ معاشرے صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بدلتے، روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں نبھانے سے بھی بدلتے ہیں۔
آخر میں عرض ہے کہ باتوں کے بادشاہ بننے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ عمل کے میدان میں بھی ہماری کچھ پہچان ہو۔ ورنہ دنیا ہمارے خطابات، وعدوں اور دعوؤں کو یاد رکھنے کے بجائے ہمارے نتائج پوچھے گی۔ اور جس دن نتائج کی فہرست سامنے آئی، اس دن محض تقریر سے کام نہیں چلے گا۔
سو صاحبو! آئیے، آج ایک چھوٹا سا کام کرکے دیکھتے ہیں۔ کسی بڑے منصوبے کا اعلان نہ کریں، کسی کمیٹی کی ضرورت نہیں اور نہ ہی پریس کانفرنس بلانے کی حاجت ہے۔ بس اپنی ایک ذمہ داری پوری کردیں۔ ممکن ہے اسی بہانے باتوں کے بادشاہوں کی سلطنت میں کام کرنے والوں کی ایک نئی بستی آباد ہوجائے۔اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر ہمیں واقعی یہ کہنے کا حق ہوگا کہ ہم نے صرف باتیں نہیں بنائیں، کچھ کرکے بھی دکھایا ہے۔ ورنہ ہماری تاریخ میں ایک اور سنہرا جملہ ضرور درج ہوجائے گا: ’’کام تو بہت ہونا تھا، مگر باتوں ہی باتوں میں وقت گزر گیا!‘‘
اطلاع ہے کہ جنوری 2027 میں کراچی کی 20 اہم سڑکیں کھود دی جائیں گی۔ خبر سنتے ہی کراچی والوں کے دلوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ جانی چاہیے، آخر نئے سال کا آغاز نئے منصوبوں، نئی کھدائیوں اور نئے گڑھوں کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ شہر میں ترقی کا سفر جاری ہے،...
ہمارے ہاں کھیلوں کی کمی نہیں۔ بچپن میں گلی ڈنڈا، پٹھو گرم، آنکھ مچولی اور لٹو کھیلا جاتا تھا، جوانی میں سیاست کا کھیل شروع ہوجاتا ہے، اور عمر بڑھ جائے تو سب سے مقبول کھیل صوبہ صوبہ بن جاتا ہے۔ اس کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں نہ گیند...
دنیا نے ایٹم بم کی ہولناک تباہی دیکھی ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی آج بھی اس طاقت کی یاد دلاتے ہیں جو چند لمحوں میں ایک شہر کو ملبے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ لیکن اب انسان ایک ایسی نئی طاقت تخلیق کر رہا ہے جو بم کی شکل میں نہیں بلکہ کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور...
ریلیف کا لفظ سنتے ہی مہنگائی کے مارے عوام کے چہروں پر امید کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ جاتی ہے۔ حکومت کسی چیز میں ریلیف دینے کا اعلان کرے تو عام آدمی سوچتا ہے کہ شاید کچھ دن کے لیے ہی سہی، گھر کا بجٹ کچھ آسان ہوجائے گا۔ لیکن ہمارے ہاں ریلیف کی...