کراچی میں سڑک کی تعمیر کے دوران دو سرکاری اداروں کے درمیان جھگڑے کی خبر پڑھ کر یوں محسوس ہوا جیسے شہر کی تعمیر و ترقی کا کوئی نیا باب کھل گیا ہو۔ عام شہری سمجھتے ہیں کہ سرکاری ادارے عوام کی سہولت کے لیے قائم کیے جاتے ہیں، ان کا کام مسائل حل کرنا، ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانا اور شہریوں کی مشکلات کم کرنا ہے۔ لیکن جب یہی ادارے کسی منصوبے کے دوران ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہو جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہر کی تعمیر کون کرے گا اور اداروں کے درمیان پیدا ہونے والی ایسی صورت حال کی ذمہ داری کون لے گا؟
معاملہ گلستانِ جوہر کو شاہراہِ فیصل سے ملانے والی لنک روڈ کی تعمیر کا تھا۔ یہ منصوبہ شہریوں کے لیے سہولت کا ذریعہ بننا تھا، مگر اس کی تعمیر کے دوران کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور پاکستان ریلوے کے درمیان زمین اور تعمیر کی اجازت کے معاملے پر تنازع سامنے آگیا۔ خبر کے مطابق اختلاف اس حد تک بڑھا کہ متعلقہ اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور جھگڑا ہوا اور معاملہ ایک دوسرے کے خلاف مقدمات درج کرانے تک پہنچ گیا۔ بعدازاں تنازع ختم ہونے اور سڑک کی تعمیر جاری رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، لیکن اصل سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر دو سرکاری اداروں کو ایک تعمیراتی منصوبے کے دوران اس حد تک آمنے سامنے آنے کی نوبت کیوں پیش آئی؟
ذرا تصور کیجیے کہ ایک طرف سرکاری ادارے کا عملہ موجود ہے اور دوسری طرف دوسرے سرکاری ادارے کے اہلکار۔ دونوں کے پاس اپنے اپنے فرائض، اختیارات اور ذمہ داریاں ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر زمین کی ملکیت، اجازت نامے یا تعمیراتی حدود کے بارے میں کوئی اختلاف تھا تو متعلقہ افسران بیٹھ کر ریکارڈ دیکھتے، قانونی پوزیشن واضح کرتے اور معاملے کا حل نکالتے۔ مگر جب تنازع سڑک پر جھگڑے کی صورت اختیار کر لے تو یہ صرف دو اداروں کے درمیان اختلاف نہیں رہتا، بلکہ پورے انتظامی نظام کی کارکردگی پر سوال بن جاتا ہے۔
طنز کی بات یہ ہے کہ عوام کو سڑکیں چاہییں، جبکہ سرکاری اداروں کو اپنے معاملات حل کرنے کے لیے سڑک پر آنے کی نوبت پیش آگئی! شہری توقع کرتے ہیں کہ سرکاری اہلکار مسائل کے حل کے لیے اپنے اختیارات اور تجربے کو استعمال کریں گے، لیکن اگر اختلاف کے وقت برداشت، رابطے اور پیشہ ورانہ رویے کی جگہ تلخ کلامی لے لے تو پھر عام شہری کس سے توقع رکھے کہ وہ اس کے مسائل خوش اسلوبی سے حل کرے گا؟
یہاں سوال کسی ایک ادارے کی برتری یا دوسرے کی کمزوری کا نہیں۔ پاکستان ریلوے ہو یا کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، دونوں سرکاری ادارے ہیں اور دونوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون اور ضابطے کے مطابق کام کریں گے۔ اگر ریلوے کی زمین پر تعمیر کے لیے اجازت ضروری تھی تو اس معاملے کو پہلے ہی واضح کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر بلدیاتی ادارے کے پاس تعمیر کی ذمہ داری تھی تو اسے بھی متعلقہ قانونی تقاضے پورے کرنے چاہییں تھے۔ اور اگر کسی مرحلے پر اختلاف پیدا ہوا تو اسے ادارہ جاتی رابطے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا۔ قانون کی پاسداری ضروری ہے، لیکن اختلاف کو جھگڑے میں تبدیل کرنا کسی بھی طور قابلِ تحسین نہیں۔
شہر کی تعمیر صرف سیمنٹ، بجری، لوہے اور تارکول سے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے منصوبہ بندی، باہمی تعاون، ذمہ داری اور نظم و ضبط بھی درکار ہوتا ہے۔ ایک شہر میں درجنوں ادارے کام کرتے ہیں۔ کوئی سڑکیں بناتا ہے، کوئی پانی کی فراہمی دیکھتا ہے، کوئی نکاسی آب کا انتظام کرتا ہے اور کوئی ٹرانسپورٹ کے نظام سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ اگر ہر ادارہ دوسرے کو حریف سمجھنے لگے تو ترقیاتی کاموں کی رفتار اور معیار دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ شہر کے مسائل پہلے ہی کم نہیں، ایسے میں اداروں کے درمیان غیر ضروری محاذ آرائی مزید مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
اس واقعے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اختلاف حل کرنے کے لیے موجود انتظامی طریق کار کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے بجائے معاملہ جھگڑے اور مقدمات تک جا پہنچا۔ سرکاری اداروں میں افسران کو اسی لیے تعینات کیا جاتا ہے کہ وہ پیچیدہ مسائل کو سمجھیں، قانون کے مطابق فیصلے کریں اور اپنے عملے کو نظم و ضبط کا پابند بنائیں۔ اگر ایک تعمیراتی منصوبے کے دوران متعلقہ ادارے اپنے اختلافات کو مہذب اور قانونی طریقے سے حل نہیں کر سکتے تو عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پھر ان اداروں کی انتظامی صلاحیت کا معیار کیا ہے؟
طنز و مزاح اپنی جگہ، لیکن اس واقعے میں سنجیدہ سبق بھی پوشیدہ ہے۔ فرض کیجیے کہ شہر کے ہر ترقیاتی منصوبے پر دو اداروں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے اور ہر اختلاف کا انجام تلخ کلامی، جھگڑے یا مقدمے کی صورت میں نکلے، تو پھر شہر کی تعمیر و ترقی کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا ہر سڑک کے ساتھ ایک تنازع بھی تعمیر کیا جائے گا؟ کیا ہر منصوبے کے آغاز پر یہ خدشہ موجود رہے گا کہ کہیں متعلقہ ادارے کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے الجھ نہ پڑیں؟ یقیناً ایسا نظام نہ شہریوں کے مفاد میں ہے اور نہ ہی سرکاری اداروں کے وقار کے لیے مناسب۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اس واقعے کو محض ایک وقتی جھگڑا سمجھ کر بھلا نہ دیا جائے۔ متعلقہ حکام کو دیکھنا چاہیے کہ تنازع پیدا ہونے کی اصل وجہ کیا تھی، رابطے میں کہاں کمی رہی اور کیا ایسے اختلافات کو روکنے کے لیے پہلے سے کوئی مؤثر طریق کار موجود تھا۔ اگر کسی اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا یا سرکاری نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی تو اس کا تعین شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ مقصد کسی کو بلاوجہ موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ آئندہ کسی ترقیاتی منصوبے کے دوران سرکاری اہلکاروں کے درمیان ایسا ناخوش گوار منظر دیکھنے میں نہ آئے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام سرکاری اداروں کو ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی طور پر شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے وسائل فراہم کرتے ہیں۔ شہریوں کے ٹیکس سے اداروں کے اخراجات پورے ہوتے ہیں، منصوبے بنتے ہیں اور عملہ تعینات کیا جاتا ہے۔ اس لیے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اداروں سے پیشہ ورانہ طرزِ عمل، باہمی تعاون اور جواب دہی کا مطالبہ کریں۔ سرکاری عہدہ اختیار ضرور دیتا ہے، لیکن اس اختیار کے ساتھ برداشت، ذمہ داری اور قانون کی پابندی بھی لازم ہے۔
کراچی کو پہلے ہی بے شمار شہری مسائل کا سامنا ہے۔ ٹریفک کا دباؤ، پانی کی قلت، نکاسی آب کے مسائل، ٹوٹی سڑکیں اور آبادی کے بڑھتے ہوئے تقاضے انتظامیہ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ ایسے شہر میں سرکاری اداروں کو ایک دوسرے کی مددگار قوت بننا چاہیے، نہ کہ ایسا فریق جو معمولی اختلاف کو بھی تصادم میں بدل دے۔ شہر کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب ادارے اپنی حدود اور ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے مشترکہ مقاصد کے لیے کام کریں۔
آخر میں سوال یہ ہے کہ جب عوام کی خدمت پر مامور ادارے ہی آپس میں الجھنے لگیں تو شہر کی تعمیر و ترقی کیسے ہوگی؟ اداروں کا کام راستے بنانا ہے، ایک دوسرے کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنا نہیں۔ اختلافات ہر نظام میں پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا حل تہذیب، قانون اور انتظامی دانش مندی سے نکالا جاتا ہے، جھگڑے سے نہیں۔
اطلاع ہے کہ جنوری 2027 میں کراچی کی 20 اہم سڑکیں کھود دی جائیں گی۔ خبر سنتے ہی کراچی والوں کے دلوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ جانی چاہیے، آخر نئے سال کا آغاز نئے منصوبوں، نئی کھدائیوں اور نئے گڑھوں کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ شہر میں ترقی کا سفر جاری ہے،...
ہمارے ہاں کھیلوں کی کمی نہیں۔ بچپن میں گلی ڈنڈا، پٹھو گرم، آنکھ مچولی اور لٹو کھیلا جاتا تھا، جوانی میں سیاست کا کھیل شروع ہوجاتا ہے، اور عمر بڑھ جائے تو سب سے مقبول کھیل صوبہ صوبہ بن جاتا ہے۔ اس کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں نہ گیند...
دنیا نے ایٹم بم کی ہولناک تباہی دیکھی ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی آج بھی اس طاقت کی یاد دلاتے ہیں جو چند لمحوں میں ایک شہر کو ملبے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ لیکن اب انسان ایک ایسی نئی طاقت تخلیق کر رہا ہے جو بم کی شکل میں نہیں بلکہ کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور...
ریلیف کا لفظ سنتے ہی مہنگائی کے مارے عوام کے چہروں پر امید کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ جاتی ہے۔ حکومت کسی چیز میں ریلیف دینے کا اعلان کرے تو عام آدمی سوچتا ہے کہ شاید کچھ دن کے لیے ہی سہی، گھر کا بجٹ کچھ آسان ہوجائے گا۔ لیکن ہمارے ہاں ریلیف کی...