ہمارے معاشرے کا ایک عجیب المیہ ہے کہ ہم کسی ضرورت مند کو چند سکے دے کر اپنی سخاوت کے چرچے تو چاہتے ہیں، مگر جب کسی کا جائز حق ادا کرنے کی باری آتی ہے تو ہمارے ہاتھ بند اور دلائل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ہم خیرات دے کر اپنی نیکی کا اعلان کرتے ہیں، لیکن حقوق کی ادائیگی کو اکثر اپنی مرضی، سہولت اور مفاد کے تابع کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں خیرات کرنے والے تو بہت ہوں، مگر حق دار کو اس کا حق دینے والے کم ہوتے جائیں، وہاں انصاف، مساوات اور انسانی وقار کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟
یہاں مسئلہ خیرات کا نہیں، اس ذہنیت کا ہے جو انسان کو اس کا حق دینے کے بجائے اسے اپنے احسان کا محتاج بنانا چاہتی ہے۔
خیرات نیکی ہے، مگر حق کی ادائیگی ذمہ داری ہے۔ ان دونوں کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔ خیرات کسی مستحق کی مدد کے لیے دی جاتی ہے، جب کہ حق وہ ہوتا ہے جو کسی شخص کا پہلے ہی واجب الادا ہو۔ کسی مزدور کو اس کی پوری اجرت دینا خیرات نہیں، اس کا حق ہے۔ کسی ملازم کی تنخواہ وقت پر ادا کرنا سخاوت نہیں، ذمہ داری ہے۔ کسی خاتون کو وراثت میں اس کا جائز حصہ دینا احسان نہیں، اس کا قانونی اور شرعی حق ہے۔ کسی شہری کو انصاف فراہم کرنا کسی کی ذاتی عنایت نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے۔
لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی کو بھی بعض اوقات احسان کا نام دے دیا جاتا ہے۔ جیسے کسی کا حق ادا کرکے اس پر کوئی غیر معمولی مہربانی کر دی گئی ہو۔
حق دار کو محتاج کیوں بنایا جاتا ہے؟
ہمارے معاشرے میں بعض اوقات کسی ضرورت مند کی مدد اس انداز میں کی جاتی ہے کہ اس کی ضرورت تو پوری ہو جاتی ہے، مگر خودداری زخمی ہو جاتی ہے۔ مدد کرنے والا اپنی نیکی کی تشہیر کرتا ہے، تصاویر بنواتا ہے، ویڈیوز نشر کرتا ہے اور داد و تحسین سمیٹتا ہے؛ جب کہ مدد لینے والا اپنی مجبوری کے ساتھ دوسروں کی نظروں کا بوجھ بھی اٹھاتا ہے۔
کیا کسی بھوکے کو کھانا کھلانے کے لیے اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا ضروری ہے؟ کیا کسی غریب کی مدد اس کی تذلیل کے بغیر نہیں کی جا سکتی؟ اور کیا ہر نیکی کو دنیا کے سامنے ثابت کرنا لازمی ہے؟
یقیناً ہر تشہیر بدنیتی پر مبنی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات فلاحی کاموں کی تشہیر دوسروں کو ترغیب دینے اور مزید وسائل جمع کرنے کے لیے بھی کی جاتی ہے۔ لیکن جہاں ضرورت مند کی مجبوری تشہیر کا ذریعہ اور اس کی بے بسی کسی کی مقبولیت کا وسیلہ بن جائے، وہاں نیکی کے طریق کار پر سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے۔
مدد وہی خوب صورت ہے جو ضرورت پوری کرے، خودداری نہ چھینے۔
مزدور کا پسینہ، مالک کی سخاوت اور اجرت کا سوال
ہم اکثر صاحبِ ثروت افراد کی طرف سے غریبوں میں راشن تقسیم کرنے کی تصاویر دیکھتے ہیں۔ یہ ایک قابلِ قدر عمل ہو سکتا ہے، لیکن اسی معاشرے میں اگر کوئی مزدور مہینوں اپنی اجرت کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے تو اس کی آواز کون سنے گا؟
اگر ایک شخص سینکڑوں افراد میں کھانا تقسیم کرے، مگر اپنے ملازم کی تنخواہ روک لے، تو اس کی سخاوت کے ساتھ اس کی ذمہ داری کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی ادارہ فلاحی سرگرمیوں پر لاکھوں خرچ کرے، مگر اپنے کارکنوں کو بروقت تنخواہیں نہ دے، تو اس کی فلاحی ساکھ پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
مزدور کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ دینا کسی مالک کا احسان نہیں۔ ملازم کو وقت پر تنخواہ دینا کسی افسر کی مہربانی نہیں۔ کسی پیشہ ور شخص سے کام لینے کے بعد اس کی طے شدہ ادائیگی روک لینا محض انتظامی تاخیر نہیں، بعض حالات میں اس کے بنیادی معاشی حق کی پامالی بھی ہے۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ ہم کسی اجنبی کو چند سو روپے دے کر سخاوت کا احساس حاصل کر لیتے ہیں، مگر اس شخص کی محنت کا معاوضہ ادا کرتے ہوئے حساب کتاب میں ایسے الجھتے ہیں جیسے وہ اپنے حق کا نہیں، ہمارا مال مانگ رہا ہو؟
وراثت میں حصہ نہیں، خیرات کی پیش کش!
ہمارے معاشرے میں عورت کے حقوق کا معاملہ بھی اسی دوہرے معیار کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بعض خاندانوں میں بیٹی یا بہن کو وراثت میں اس کا جائز حصہ دینے کے بجائے کبھی تحفے، کبھی شادی کے اخراجات اور کبھی خاندانی محبت کے نام پر خاموش رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔
گویا برسوں کی محبت، رشتے کا تقدس اور خاندان کی عزت سب اسی وقت یاد آتے ہیں جب عورت اپنے حق کی بات کرتی ہے۔
اسے سمجھایا جاتا ہے کہ بھائیوں سے تعلق خراب نہ کرو، والدین کی عزت کا خیال کرو، خاندان میں اختلاف پیدا نہ کرو۔ لیکن یہ سوال کم ہی اٹھایا جاتا ہے کہ حق مانگنے والی کو ہی تعلقات کی تباہی کا ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ اس شخص سے سوال کیوں نہیں ہوتا جو اس کا حق روک رہا ہے؟
اسلام نے وراثت کے حصے مقرر کیے ہیں۔ کسی وارث کا حق دبانا اور پھر اسے کچھ رقم دے کر احسان جتانا انصاف نہیں۔ کسی عورت کو اس کے جائز حق سے محروم رکھ کر خیرات پیش کرنا اس حق کا متبادل نہیں بن سکتا۔
جس حق کو روک کر احسان کیا جائے، وہ احسان نہیں، ناانصافی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
غریب کی مجبوری، طاقت ور کی سہولت
معاشی ناہمواری صرف آمدنی کا فرق نہیں؛ یہ طاقت، اختیار اور مواقع کی غیر مساوی تقسیم کا مسئلہ بھی ہے۔ جس کے پاس وسائل ہوں، وہ اپنے لیے راستے نکال لیتا ہے۔ جس کے پاس وسائل نہ ہوں، اسے اکثر اپنے جائز حق کے لیے بھی سفارش، انتظار اور التجا کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
ایک غریب شخص کو علاج کے لیے امداد مانگنی پڑتی ہے، حالاں کہ معیاری صحت کی سہولتوں تک رسائی اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ ایک طالب علم فیس کی معافی کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے، حالاں کہ تعلیم کے مواقع بڑھانا اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ایک بے روزگار نوجوان کسی صاحبِ اختیار سے ملازمت کی درخواست کرتا ہے، اور بعض اوقات میرٹ کے بجائے تعلقات کی بنیاد پر فیصلے ہوتے ہیں۔
یقیناً ہر سہولت ہر شخص کو بلاشرط فراہم کرنا ممکن نہیں، اور نہ ہر محرومی کسی فرد کی دانستہ ناانصافی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ مگر جب نظام میں کمزور انسان کو اپنے حق کے حصول کے لیے مسلسل اپنی بے بسی ثابت کرنا پڑے، تو مسئلہ صرف غربت کا نہیں رہتا؛ یہ نظام کی ترجیحات کا سوال بن جاتا ہے۔
ریاست کی ذمہ داری محض ضرورت مندوں میں امداد تقسیم کرنا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا بھی ہے جن میں شہری باعزت زندگی گزار سکیں، روزگار حاصل کر سکیں، انصاف تک رسائی رکھیں اور اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی فرد کی ذاتی خوشنودی کے محتاج نہ ہوں۔
نیکی کی نمائش یا ذمہ داری کا شعور؟
ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں کسی کی مدد کرنے کے بعد اس کی تصویر شائع کرنا آسان ہے، لیکن اپنے رویّے کا محاسبہ کرنا مشکل۔ ہم دوسروں کو دینے کے قصے سناتے ہیں، مگر یہ کم پوچھتے ہیں کہ کہیں ہم نے کسی کا حق تو نہیں روکا؟ کہیں ہمارے الفاظ نے کسی کی عزت تو مجروح نہیں کی؟ کہیں ہماری طاقت نے کسی کمزور کو اس کے جائز مطالبے سے دست بردار ہونے پر مجبور تو نہیں کیا؟
یہ محاسبہ صرف صاحبِ ثروت افراد کے لیے نہیں، ہم سب کے لیے ہے۔
کسی ملازم سے اس کی استطاعت سے بڑھ کر کام لے کر اس کی محنت کو معمولی سمجھنا، کسی کمزور رشتے دار کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا، کسی مستحق کو امداد دیتے ہوئے اسے بار بار شرمندہ کرنا، کسی کا جائز معاوضہ روک کر خود کو سخی سمجھنا—یہ سب رویّے ہمیں اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
نیکی کی تشہیر بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن تشہیر نیکی کا مقصد بن جائے تو اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ معاشرے کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو صرف مدد کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں، بلکہ دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے کا شعور بھی رکھتے ہوں۔
خیرات سے آگے بڑھ کر انصاف کی طرف
خیرات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بھوک مٹانا، بیمار کا علاج کرانا، یتیم کی کفالت کرنا اور مصیبت زدہ انسان کا سہارا بننا قابلِ قدر انسانی اور اخلاقی اعمال ہیں۔ لیکن ایک صحت مند معاشرہ صرف خیرات کے سہارے نہیں چل سکتا۔ اسے ایسے نظام کی ضرورت ہوتی ہے جہاں حقوق محفوظ ہوں، محنت کا معاوضہ ملے، قانون سب کے لیے یکساں ہو اور کسی کی عزت اس کی مالی حیثیت کی محتاج نہ ہو۔
ہمیں ایسے تعلیمی ادارے چاہییں جہاں مستحق بچوں کو باعزت مواقع ملیں؛ ایسے نظامِ صحت کی ضرورت ہے جہاں علاج صرف صاحبِ استطاعت کی سہولت نہ ہو؛ ایسے ادارے درکار ہیں جہاں کارکنوں کی تنخواہیں وقت پر ادا ہوں؛ اور ایسا معاشرتی شعور ضروری ہے جہاں کسی کا جائز مطالبہ اسے ناشکرا، خودغرض یا بے ادب قرار دینے کا سبب نہ بنے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ضرورت مند کی مدد کرنا انسانیت ہے، لیکن کسی کو اس کے حق سے محروم نہ کرنا انصاف ہے۔ انسانیت اور انصاف ایک دوسرے کے مخالف نہیں؛ دونوں مل کر ہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔
آخری سوال: ہم سخی بننا چاہتے ہیں یا منصف؟
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کتنا دیتے ہیں؛ اصل سوال یہ بھی ہے کہ ہم کس کا کتنا حق ادا کرتے ہیں۔ ہم کتنی خیرات تقسیم کرتے ہیں، اس کا حساب رکھا جا سکتا ہے، مگر ہم نے کتنے لوگوں کے جائز مطالبات سنے، کتنے کارکنوں کو ان کی پوری اجرت دی، کتنی عورتوں کو وراثت میں ان کا حق دیا، کتنے کمزور افراد کے ساتھ طاقت کے بجائے انصاف کا برتاؤ کیا—یہ وہ سوالات ہیں جو ہمارے اجتماعی کردار کی حقیقت سامنے لاتے ہیں۔
ہمیں دوسروں کی مدد کرنے پر خوش ہونا چاہیے، مگر اس خوشی کو اپنے احتساب کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔ ہمیں خیرات بھی کرنی چاہیے اور حقوق بھی ادا کرنے چاہییں۔ ہمیں بھوکوں کو کھانا بھی کھلانا چاہیے اور اس نظام کی اصلاح کے لیے بھی آواز اٹھانی چاہیے جس میں لوگ بنیادی ضروریات کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔
کیونکہ کسی بھوکے کو ایک وقت کا کھانا دینا نیکی ہے، لیکن اسے باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ کسی غریب کی مالی مدد کرنا قابلِ تحسین ہے، لیکن اسے اس کے جائز حقوق سے محروم نہ کرنا اس سے بھی بنیادی ذمہ داری ہے۔
معاشرہ اس وقت مہذب نہیں بنتا جب اس کے صاحبِ حیثیت افراد خیرات کے بڑے بڑے اعلانات کرتے ہیں؛ معاشرہ اس وقت مہذب بنتا ہے جب کمزور انسان کو اپنا حق مانگنے کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
ہمیں خیرات کے چرچے کرنے سے پہلے اپنے فرائض کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہمارے ہاتھوں سے تقسیم ہونے والی رقم، ہمارے ہی ہاتھوں روکے گئے کسی دوسرے کے حق کا معمولی سا حصہ تو نہیں۔
کیونکہ آخرکار تاریخ صرف یہ نہیں پوچھے گی کہ ہم نے کتنا دیا؛ وہ یہ سوال بھی اٹھائے گی کہ ہم نے کس کا حق روکا، کس کی آواز دبائی اور کس کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا؟
خیرات کیجیے، ضرور کیجیے؛ مگر کسی کا حق روک کر نہیں۔ مدد کیجیے، ضرور کیجیے؛ مگر کسی کی عزتِ نفس کی قیمت پر نہیں۔ اور اگر واقعی ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو سخاوت کے ساتھ انصاف کو بھی اپنی زندگی کا اصول بنائیے۔
کیونکہ خیرات کسی کی ضرورت پوری کر سکتی ہے، مگر انصاف ہی انسان کو اس کا حق اور اس کی عزت واپس دلاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں عورت کی کامیابی کا اعتراف کرنے سے پہلے اس کی اہلیت پر سوال اٹھانا ایک عام رویّہ بنتا جا رہا ہے۔ کسی خاتون کو اعزاز ملے، کسی ادبی محفل میں نمایاں مقام دیا جائے یا اس کی خدمات کو سراہا جائے تو بعض حلقوں سے فوراً آواز آتی ہے: ’’عورت ہے، اس...
شاعری صرف لفظوں کا خوب صورت لباس نہیں، یہ احساس کی وہ آواز ہے جو ہر شاعر کے ہاں اپنا لہجہ اختیار کر لیتی ہے۔ ایک ہی خیال کسی شاعر کے ہاں محبت بن کر اترتا ہے، دوسرے کے ہاں احتجاج بن جاتا ہے، تیسرے کے ہاں فلسفہ، چوتھے کے ہاں طنز اور پانچویں کے...
سچ بولنے والے سے سبھی توڑ کے رشتے جھوٹے کی طرف بڑھتے قدم دیکھ رہا ہوں نظام نوشاہی سنبھلی ہمیں سچ سے کوئی خاص دشمنی نہیں، بس شرط یہ ہے کہ سچ ہمارے خلاف نہ ہو۔ ہم سچائی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، محفلوں میں حق گوئی کے قصے سناتے ہیں، ادب میں اعلیٰ...
کبھی سوچا تھا کہ ایک دن ہم اپنے موبائل کی اسکرین پر خود کو دیکھیں گے اور چند لمحوں کے لیے حیران رہ جائیں گے کہ یہ تصویر ہماری ہے یا ہمارے والدین کے زمانے کی؟ لیکن 2026 نے یہ حیرت بھی ممکن کر دکھائی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک دلچسپ اور تیزی...