سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں نے ملک میں فوری انصاف اور قانون کی بالادستی سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف شہری جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کیا کسی ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر ہلاک کردینا انصاف ہے؟ عوام کا غصہ اپنی جگہ، لیکن اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی قانون سے بالاتر ہوجائیں تو شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟
ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کی موت کے مقدمے کے ملزم توقیر نذیر اور اسلام آباد کی طالبہ لائبہ اعجاز کے مقدمے کے ملزم محمد نعمان کی مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں نے اس بحث کو مزید اہم بنادیا ہے۔ پولیس نے ان واقعات کے بارے میں اپنے مؤقف پیش کیے، تاہم ایسے معاملات میں اصل حقائق جاننے کے لیے شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
عوامی غصہ اور انصاف کا سوال
سنگین جرائم کی خبریں سامنے آنے پر عوام کا غصہ فطری ہے۔ جب کوئی خاندان اپنے پیارے کو کھو دیتا ہے یا کوئی شہری ڈکیتی اور تشدد کا نشانہ بنتا ہے تو وہ فوری انصاف چاہتا ہے۔ ایسے میں بعض لوگ پولیس مقابلوں میں ملزمان کی ہلاکت کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی قرار دیتے ہیں۔
تاہم دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر جرم کا الزام ہو تو کیا اسے عدالت میں پیش کیے بغیر سزا دینا درست ہے؟ ملزم اور مجرم میں فرق ہے۔ الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا، جب تک شواہد کی روشنی میں عدالت اس کے جرم کا فیصلہ نہ کردے۔
عوامی سطح پر اس حوالے سے سخت ردعمل اور خدشات سامنے آتے رہے ہیں کہ اگر پولیس مقابلوں کی آزادانہ تحقیقات نہ ہوں تو کسی واقعے کے اصل حقائق کیسے سامنے آئیں گے؟ یہ محض پولیس کی مخالفت کا معاملہ نہیں، بلکہ قانون کے یکساں اطلاق اور شہریوں کے تحفظ کا سوال ہے۔
کیا پولیس کسی کو بھی مار سکتی ہے؟
اس سوال کا جواب واضح ہے: نہیں۔ پولیس کو کسی شخص کو محض شبہے یا الزام کی بنیاد پر ہلاک کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اس کا کام ملزم کو گرفتار کرنا، شواہد جمع کرنا اور اسے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے۔ عدالت جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا دیتی ہے۔
البتہ اگر کسی کارروائی کے دوران کسی کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہو تو پولیس قانون کی مقررہ حدود میں ضروری طاقت استعمال کرسکتی ہے۔ لیکن کسی گرفتار ملزم کی ہلاکت کو محض پولیس مقابلہ قرار دے دینا اس کارروائی کو خودبخود قانونی نہیں بناتا۔ ہر مشتبہ واقعے کے حقائق کی جانچ ضروری ہے۔
فروری 2026 میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں سے متعلق اپنی رپورٹ میں 2025 کے آٹھ ماہ کے دوران کم از کم 670 مبینہ پولیس مقابلوں اور 924 مشتبہ افراد کی ہلاکتوں کا ذکر کیا تھا۔ کمیشن نے ان واقعات کی اعلیٰ سطح پر عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ یہ رپورٹ میں درج اعدادوشمار ہیں، انہیں عدالت سے ثابت شدہ جعلی مقابلوں کی تعداد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم یہ اعدادوشمار اس معاملے کی سنجیدگی اور آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ضرور اجاگر کرتے ہیں۔
پولیس مقابلوں کا حل کیا ہے؟
اس مسئلے کا حل پولیس کو کمزور کرنا نہیں، بلکہ اسے مؤثر، پیشہ ور اور جوابدہ بنانا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، لیکن کامیابی کا پیمانہ ملزمان کی ہلاکتوں کے بجائے جرائم میں کمی، شواہد پر مبنی تفتیش اور عدالتوں سے سزائیں دلوانا ہونا چاہیے۔
سب سے پہلے، پولیس مقابلوں میں ہونے والی مشتبہ ہلاکتوں کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔ جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے جائیں، فرانزک معائنہ ہو، عینی شاہدین کے بیانات لیے جائیں اور دستیاب ویڈیو ریکارڈنگ کا جائزہ لیا جائے۔ اگر پولیس کے مؤقف اور شواہد میں تضاد سامنے آئے تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔
دوسرا، گرفتار افراد کی حراست کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے اور انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ کسی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنے یا عدالتی کارروائی سے محروم کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
تیسرا، تفتیش اور استغاثہ کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مضبوط مقدمات تیار ہوں۔ اگر ملزمان ناقص تفتیش یا کمزور شواہد کے باعث سزا سے بچ جاتے ہیں تو ان خامیوں کو دور کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
چوتھا، اگر کسی پولیس اہلکار کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد ملیں تو اس کا بھی قانون کے مطابق احتساب ہونا چاہیے۔ اس سے پولیس کا وقار کم نہیں ہوگا، بلکہ عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا۔
انصاف انتقام کا نام نہیں
وسیم عباس اور لائبہ اعجاز جیسے مقدمات کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف ملنا چاہیے۔ ان واقعات کی مکمل تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور عدالت سے سزا دلوانا ریاست کا فرض ہے۔ لیکن ملزم کی ہلاکت سے ضروری نہیں کہ جرم کے تمام پہلو سامنے آجائیں یا ممکنہ ساتھیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوجائیں۔
پولیس مقابلے میں ہلاکت کی ہر خبر کو درست یا غلط قرار دینے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے۔ اگر پولیس نے کسی کی جان کو لاحق فوری خطرے کے باعث قانون کے مطابق کارروائی کی تو تحقیقات میں یہ بات سامنے آنی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا تو اسے بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔
ریاست کی طاقت کا مقصد قانون کی حفاظت ہے، اس کی جگہ لینا نہیں۔ پولیس کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کا پورا اختیار ہونا چاہیے، لیکن اس اختیار کے ساتھ جوابدہی بھی لازم ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مجرم کو سزا ملنی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سزا کون دے گا اور کس قانونی طریقے سے؟
اگر فیصلہ شواہد اور عدالت کے بجائے گولی کی طاقت سے ہونے لگے تو کسی بھی شہری کے تحفظ کی ضمانت کمزور پڑ سکتی ہے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ پولیس ملزم کو گرفتار کرے، عدالت جرم ثابت ہونے پر سزا دے اور قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ یہی راستہ جرائم کے خاتمے اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مدد دے سکتا ہے۔ See less
بالی وڈ اداکار عمران خان ان دنوں اپنی کسی نئی فلم کے بجائے شہریت اور بھارت میں قیام سے متعلق معاملے پر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ بھارتی حکام نے انہیں 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں...
بھارتی سنیما کے معروف اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی فلمی صنعت میں سوگ کی فضا پھیل گئی۔ تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط فنی سفر میں نانا پاٹیکر نے ولن، پولیس افسر، فوجی، گینگسٹر، سیاست دان، باپ اور عام آدمی سمیت مختلف...
کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کا مسئلہ اب صرف لوڈشیڈنگ تک محدود نہیں رہا۔ ایک طرف گھنٹوں بجلی بند رہنے کی شکایات ہیں، دوسری طرف بجلی کے بھاری بل گھروں کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس شہر کے شہری بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں،...
دنیا کی سیاسی تاریخ میں سڑک صرف سفر کا راستہ نہیں رہی، کئی مواقع پر یہی سڑک عوامی طاقت، احتجاج اور سیاسی مطالبات کے اظہار کا سب سے بڑا میدان بھی بنی۔ کبھی ہزاروں لوگ کسی قانون کے خلاف سڑکوں پر نکلے، کبھی کسی حکومت سے مطالبات منوانے کے لیے دارالحکومت کا رخ کیا اور...