غیر ممالک میں رہتے ہوئے ہم اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ یہاں پڑوسی کو پڑوسی کی خبر نہیں، کوئی بیمار ہو جائے تو ضروری نہیں کہ ساتھ والے گھر کو بھی معلوم ہو، نہ رشتے داروں کی آمدورفت، نہ بلاواسطہ میل جول، نہ وہ اپنائیت جس کے قصے ہم اپنے وطن کے حوالے سے سنایا کرتے تھے۔ ہمیں لگتا تھا کہ مغربی معاشرے میں زندگی تو آسودہ ہے، مگر رشتوں کی گرمی اور تعلقات کی مٹھاس کہیں برف میں جم گئی ہے۔لیکن اب وطن کی طرف نظر اٹھاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جن رویوں کو ہم غیر ملکی معاشرے کی مجبوری سمجھتے تھے، وہ ہمارے ہاں بھی تیزی سے رواج پا رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں پڑوسی مصروفیت کی وجہ سے ایکدوسرے سے بے خبر رہتے ہیں اور ہمارے ہاں بعض لوگ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ایک دوسرے سے بے خبر رہنا پسند کرتے ہیں۔ گویا بے گانگی بھی اب ایک باقاعدہ سماجی اسٹیٹس بن چکی ہے وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا جب پڑوسی کے گھر کھانا پکتا تو خوشبو کے ساتھ پیغام بھی آ جاتا، کسی کے گھر خوشی ہوتی تو پورا محلہ شریک ہوتا، اور کسی کے ہاں پریشانی آتی تو لوگ یہ نہیں پوچھتے تھے کہ ہمیں کیا ملے گا، بلکہ یہ سوچتے تھے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ اب تو بعض جگہ پڑوسی سے تعلق اتنا محدود ہو گیا ہے کہ سلام دعا بھی ایسے ہوتی ہے جیسے کسی سرکاری دفتر میں فائل پر دستخط ہو رہے ہوں نہ ضرورت سے زیادہ بات، نہ بے تکلفی کا خطرہ رشتے داروں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ قریبی عزیزوں سے ملاقات کا سب سے قابلِ اعتماد موقع اب خاندان میں ہونے والی شادی بن گئی ہے۔ سال بھر کسی کو کسی کی خبر نہیں، لیکن شادی کا دعوت نامہ ملتے ہی اچانک یادداشت واپس آ جاتی ہے کہ ارے، ہمارے تو اتنے رشتے دار بھی ہیں پھر شادی میں ملاقات ہوتی ہے، خیریت پوچھی جاتی ہے، دو چار رسمی جملے ادا ہوتے ہیں، تصویریں بنائی جاتی ہیں اور اگلی شادی تک کے لیے تعلقات دوبارہ محفوظ کر دئیے جاتے ہیں ،البتہ اس خاندانی اجتماع میں بھی ایک دلچسپ تقسیم نظر آتی ہے امیر رشتے داروں کے لیے گرم جوشی، غریب رشتے داروں کے لیے رسمی مسکراہٹ۔ بعض لوگوں کو غریب رشتے داروں سے ایسی الرجی ہوتی ہے کہ ان کے قریب آتے ہی خاندانی محبت کی طبیعت ناساز ہونے لگتی ہے۔حیرت ہے کہ رشتے تو اللہ نے بنائے، مگر ہم نے ان میں بھی طبقاتی نظام نافذ کر دیا۔ اب رشتے دار کی عزت کا معیار اس کا خلوص نہیں، اس کی مالی حیثیت ہے۔ جس کی جیب بھاری ہو، اس کے لیے دروازے بھی کھلے ہیں اور دل بھی جس کی جیب خالی ہو، اس کے لیے کبھی مصروفیت کا بہانہ ہے، کبھی وقت کی کمی اور کبھی فون کی بیٹری ختم ہونے کا عذرجب معاشرے سے تربیت، اخلاقیات اور احساسِ انسانیت رخصت ہونے لگیں تو تباہی صرف گھروں کا نہیں، پوری قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔آج ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں زندگی کی آسائشیں تو بڑھ گئی ہیں، مگر زندگی کااحساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ عمارتیں بلند ہو رہی ہیں، دولت کے انبار لگ رہے ہیں، نت نئی گاڑیاں اور مہنگے لباس ہماری شخصیت کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، لیکن انسان کے اندر کا انسان کہیں کھوتا جا رہا ہے۔ ہم ایک دوسرے سے اپنی فکریں اور غم چھپاتے ہیں کہ سامنے والا ہمدردی تو بھلا کیا کرے گا الٹا اس خیال سے اس کا دل مطمئن ہوجائے گا کہ چلو اس کو بھی کوئی غم ملا۔ایک دوسرے سے دکھ درد کہہ کر غم ہلکے ہوجایا کرتے تھے۔ہمدرد ہوائیں تو ہماری معاشرتی فضا میں اب چلتی نہیں۔تصنع اور بناوٹ نے ہم سے ہمارا اصل روپ چھین لیا ہے،ہمارے گھر آنگنوں سے بزرگوں کی دعاؤں ان کی نصحیتیں برکتیں اٹھ گئی ہیں اعلی ترین تعلیم کے حصول کی دوڑ نے ہمیں ہماری بنیادی تعلیمات سے بیگانہ کر دیا ہے۔ہمارے غیر فطری رویوں اور دین سے دوری نے اخلاقیات کا خاتمہ کر دیا ہے اور ناپسندیدہ افعال کو جنم دیا ہے۔اجتماعی زندگی کا اصل حسن احسان، ایثار،حسن معاملات، اخوت، رواداری اور قربانی سے جنم لیتا ہے۔ جب تک اخلاقی حس لوگوں میں باقی رہتی ہے وہ اپنے فرائض کو ذمہ داری اور خوش دلی سے ادا کرتے ہیں اور جب یہ حس مردہ اور وحشی ہو جاتی ہے تو پورے معاشرے کو مردہ اور وحشی کر دیتی ہے تو وہ لوگوں کے حقوق کو خونی درندے کی طرح کھانے لگتا ہے توایسے معاشرے میں ظلم و فساد عام ہوجاتا ہے۔افسوس یہ کہ جن افراد پرمعاشرے کی اصلاح کی زمہ داری ہے وہ خود بگڑے ہوئے ہیں۔آئے روز ایسی خوفناک خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ دل دہل جاتا ہے،کہیں کسی بے گناہ کی جان لے لی جاتی ہے، کہیں رشتوں کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے، کہیں دولت کی خاطر اپنوں کا خون بہایا جاتا ہے اور کہیں معمولی اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کیا ہم واقعی ایک مہذب معاشرے میں رہ رہے ہیں یا صرف تہذیب کا ظاہری لباس پہن کر اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں؟معاشرے کی اصل پہچان اس کی دولت، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں انسان کی جان،عزت اور حقوق کتنے محفوظ ہیں اگر بدقسمتی سے ہم نے کامیابی کا معیار ہی بدل دیا ہے۔ اب انسان کی قدر اس کے کردار سے نہیں، اس کے بینک بیلنس، عہدے، گاڑی اور سماجی حیثیت سے کی جاتی ہے۔ جس کے پاس دولت ہے، اس کی غلطی بھی اکثر مصلحت بن جاتی ہے، جبکہ کمزور آدمی کی معمولی لغزش بھی جرم بنا کر پیش کی جاتی ہے۔دولت زندگی کی ضرورت ہے، مگر جب ضرورت ہوس میں بدل جائے تو انسان اچھے اور برے کی تمیز کھونے لگتا ہے۔ جائز اور ناجائز ذرائع سے دولت حاصل کرنے کی دوڑ میں بعض لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ رزق کمانے اور کسی کا حق مارنے میں فرق ہوتا ہے۔ کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا، دھوکا دینا، جھوٹ بولنا اور دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنی تجوریاں بھرنا کامیابی نہیں، اخلاقی زوال کی علامت ہے۔المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی دولت کے نشے میں اس قدر چور ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنے سامنے کھڑا انسان بھی حقیر دکھائی دینے لگتا ہے۔ ان کے لہجے میں تکبر، رویوں میں غرور اور تعلقات میں مفاد نمایاں ہونے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ دولت انسان کو آسائشیں تو دے سکتی ہے، مگر عزت، محبت اور سکون خریدنے کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس بے شمار دولت ہے مگر اپنے ضمیر کی آواز سننے کی فرصت نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انسان دنیا سے خالی ہاتھ جاتا ہے؛ اس کے ساتھ اس کا مال و دولت نہیں بلکہ اس کے اعمال اور لوگوں کے دلوں پر چھوڑے گئے اثرات رہ جاتے ہیں۔رشتوں سے مٹھاس کیوں ختم ہو رہی ہے؟ایک وقت تھا جب رشتوں میں خلوص، اپنائیت اور قربانی کو اہمیت دی جاتی تھی۔ کسی کے گھر خوشی ہوتی تو پورا خاندان شریک ہوتا، کسی پر مشکل آتی تو لوگ اس کا سہارا بنتے۔ آج بھی ایسے خوبصورت رشتے موجود ہیں، لیکن مفاد پرستی، حسد اور مقابلے کی سوچ نے بہت سے تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ اب بعض لوگوں کو اپنے عزیز کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے یہ فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ وہ ہم سے آگے کیسے نکل گیا۔کسی نے گھر خرید لیا تو موازنہ شروع، کسی کے بچوں نے ترقی کر لی تو دل میں بے چینی،
کسی کی زندگی میں خوشی آ گئی تو اس خوشی میں شریک ہونے کے بجائے اس میں نقص نکالنے کی کوشش۔ گویا دوسروں کی خوشی ہماری اپنی محرومی بن گئی ہے۔ ہم اپنی زندگی بہتر بنانے سے زیادہ دوسروں کی زندگی کا حساب رکھنے میں مصروف ہیں۔
سوال یہ ہے کہ حسد سے کسی دوسرے کا نقصان ہو بھی جائے تو حسد کرنے والے کو کیا حاصل ہوتا ہے؟ کیا کسی کا گھر چھوٹا کرنے سے ہمارا گھر بڑا ہو جاتا ہے؟ کیا کسی کی خوشی چھین لینے سے ہماری زندگی خوشیوں سے بھر جاتی ہے؟ دوسروں کی خوشیوں پر جلنے کے بجائے اگر ہم اپنی اصلاح اور محنت پر توجہ دیں تو معاشرے میں نفرت کے بجائے محبت کو فروغ مل سکتا ہے۔رشتے دولت اور نمود و نمائش سے نہیں، خلوص اور احترام سے مضبوط ہوتے ہیں۔ جہاں ہر تعلق کو فائدے اور نقصان کے ترازو میں تولا جائے، وہاں محبت آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہے۔تربیت کہاں کھو گئی معاشرتی بگاڑ کی ایک بڑی وجہ تربیت کے تصور کو نظرانداز کرنا بھی ہے۔ تعلیم اور تربیت دو الگ چیزیں ہیں تعلیم انسان کو علم دیتی ہے، جبکہ تربیت اسے بتاتی ہے کہ اس علم کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔ ایک شخص اعلیٰ ڈگریاں حاصل کر سکتا ہے، بڑے عہدے پر پہنچ سکتا ہے اور دنیا کے سامنے کامیاب بھی دکھائی دے سکتا ہے، دوسروں کی تضحیک کی جائے، ملازمین سے بدسلوکی ہو اور طاقت ور کو ہر قانون سے بالاتر سمجھا جائے تو بچوں سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ بڑے ہو کر دیانت دار اور ذمہ دار شہری بنیں گے ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اخلاقیات کا درس صرف دوسروں کو دینے سے معاشرہ درست نہیں ہوتا تبدیلی کا آغاز اپنے گھر، اپنے رویے اور اپنے کردار سے کرنا پڑتا ہیہم چاہتے ہیں کہ بچے سچ بولیں، لیکن کیا ہم خود سچ بولتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری عزت کریں، لیکن کیا ہم دوسروں کی عزت کرتے ہیں؟ ہم معاشرے میں انصاف چاہتے ہیں، لیکن کیا اپنے مفاد کے خلاف ہونے پر بھی انصاف کا ساتھ دیتے ہیں؟علاج صرف شکایت نہیں، اصلاح ہیکسی بھی معاشرے میں جرائم اور اخلاقی مسائل کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ غربت، ناانصافی، عدم تحفظ، منشیات، خاندانی مسائل اور قانون پر عمل درآمد کی کمزوری بھی حالات کو بگاڑ سکتی ہے۔ اس لیے ہر خرابی کا ذمہ دار صرف ایک فرد یا ایک طبقے کو ٹھہرا دینا کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مسائل کی وجوہات کو سمجھیں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کریں، معاشرے میں ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے جو دیانت داری، خدمت اور انسان دوستی کی مثال قائم کرتے ہیں ،سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ کسی انسان کی عزت، جان اور حق محض اس لیے کم اہم نہیں ہو جاتے کہ وہ غریب، کمزور یا بے اختیار ہے۔ انسانیت کا اصل امتحان طاقت ور کے سامنے جھکنے میں نہیں، بلکہ کمزور کے حق میں کھڑے ہونے میں ہے۔معاشرہ ایک دن میں بیمار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا علاج ایک دن میں ممکن ہے۔یا ایسا معاشرہ جہاں کردار کو دولت پر، محبت کو حسد پر اور انصاف کو طاقت پر فوقیت حاصل ہو؟یاد رکھیے، معاشرے کی تباہی اس وقت شروع نہیں ہوتی جب عمارتیں گرنے لگتی ہیں؛ تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان کے اندر سے خوفِ خدا، احساسِ ذمہ داری اور احساسِ انسانیت ختم ہونے لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی ایک افسوسناک بیماری یہ بھی ہے کہ کسی شخص کے ہاتھ میں ذرا سا اختیار آ جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور اسے امانت سمجھنے کے بجائے خود کو علاقے کا ڈان سمجھنے لگتا ہے تک جو شخص دوسروں کے سامنے اپنے کام کے لیے سفارشیں ڈھونڈتا پھرتا تھا، آج اگر اسے کوئی عہدہ، دولت یا اثر و رسوخ حاصل ہو جائے تو اس کے تیور ہی بدل جاتے ہیں۔ لہجہ ایسا جیسے پورا علاقہ اس کی جاگیر ہو اور باقی سب لوگ اس کے احسان مند
ہوں۔اختیار ملتے ہی بعض لوگوں کے رویوں میں ایسی تبدیلی آتی ہے جیسے انہیں کوئی عہدہ نہیں بلکہ بادشاہت مل گئی ہو۔معاشرہ واقعی بیمار ہے، مگر سوال صرف یہ نہیں کہ علاج کون کرے گااصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود اپنی اصلاح کے لیے تیار ہیں؟ کیونکہ معاشرہ ہم سے بنتا ہے، اور اس کی بیماری کا علاج بھی ہم ہی سے شروع ہوگا۔
پولیس کا محکمہ کسی بھی معاشرے میں امن و امان کی علامت اور شہریوں کے تحفظ کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پولیس کی اصل کارکردگی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شہری مصیبت میں اسے آواز دیتا ہے۔ ہم کینیڈا میں رہتے ہوئے جب پولیس کی پھرتی دیکھتے ہیں تو کبھی کبھی...
بد اچھا بدنام برا نام بڑا درشن چھوٹے اس طرح کے کئی محاورے اور مثالیں نام پر پائی جاتی ہیں ۔ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا،آجکل فی زمانہ نام میں کچھ نہیں رکھا دیکھا جائے تو اگر نام کے ساتھ بدلگ جائے تو اس کے لئے دولت ،عزت ،شہرت کے دروازے کھل...
کینیڈا کے موسم کا کوئی بھروسا نہیں کہتے ہیں یہاں سال کے چھ موسم ہوتے ہیں، جن میں تین وہ ہیں جن کا کوئی بھروسا نہیں! یہاں موسم کی پیش گوئی دیکھ کر گھر سے نکلنا بھی ایک طرح کا امتحان ہے۔ صبح سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو تو آدمی سوچتا...
ہم امریکہ ،کینیڈا ، یورپ میں دیکھتے ہیں کہ (Senior Citizens) سینئر شہریوں کو بیکار یا معاشرے پر بوجھ نہیں سمجھا جاتا۔ شاپنگ مال ہوں، بڑے اسٹور ہوں یا سپر مارکیٹوں کی کیشئر جابز، ہر جگہ بڑی عمر کے مرد اور خواتین کام کرتے دکھائی دیتے ہیں بعض خواتین تو ایئرلائنز میں بھی ائیرہوسٹس کے...