پشاور کی دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے درجنوں بچوں کے جاں بحق ہونے کا المناک واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر، انتظامی نظام اور انسانی جانوں کے تحفظ کے دعوؤں پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وہ سانحہ ہے جس نے کئی گھروں کے چراغ گل کر دیے، ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں، باپ کے خواب چھین لیے اور بہن بھائیوں کو عمر بھر کے لیے ایسے دکھ میں مبتلا کر دیا جس کا مداوا دنیا کی کوئی دولت نہیں کر سکتی۔ جن بچوں کو صبح اسکول بھیجتے وقت والدین نے بہتر مستقبل کی امیدیں باندھی ہوں گی، انہیں کیا معلوم تھا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والا یہ سفر ان کے خاندانوں کے لیے زندگی بھر کا کرب بن جائے گا۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس سانحے کے بعد سامنے آنے والی تحقیقاتی رپورٹ میں عمارت کی تعمیر، اس کے نقشے اور چھت کی ساخت سے متعلق ایسے انکشافات کیے گئے ہیں جو کسی بھی باشعور انسان کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ ایسٹرن زون کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق، 15 اکتوبر کو پیش آنے والے اس حادثے میں نجی اسکول کے ایک کلاس روم کا پچھلا حصہ گرا، جبکہ عمارت کا نقشہ متعلقہ ادارے کے ریکارڈ میں موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ عمارت 2011 میں اس وقت کی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ٹاؤن فور کے دائرہ اختیار میں تعمیر کی گئی تھی۔
تحقیقاتی رپورٹ کا سب سے تشویش ناک انکشاف یہ ہے کہ عمارت بنیادی طور پر اسکول کے لیے تعمیر ہی نہیں کی گئی تھی، بلکہ یہ گراؤنڈ اور فرسٹ فلور پر مشتمل ایک رہائشی عمارت تھی۔ فرسٹ فلور کی چھت لکڑی کے تختوں پر اینٹیں رکھ کر بنائی گئی تھی، جبکہ رپورٹ کے مطابق یہ چھت عارضی اور کچی تھی اور اسکول کے استعمال کے لیے بالکل موزوں نہیں تھی۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک عمارت رہائشی مقاصد کے لیے تعمیر کی گئی تھی تو اسے بچوں کے مستقبل سے وابستہ تعلیمی ادارے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت کیسے ملی؟
یہاں معاملہ صرف ناقص تعمیر کا نہیں، بلکہ اس پورے نظام کا ہے جس میں ایک عمارت برسوں کھڑی رہتی ہے، وہاں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہتا ہے، مگر اس کے بنیادی حفاظتی تقاضوں کی جانچ کا کوئی مؤثر انتظام دکھائی نہیں دیتا۔ اگر تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چھت بچوں اور فرنیچر کا وزن برداشت کرنے کے قابل نہیں تھی تو یہ سوال ناگزیر ہے کہ اسکول انتظامیہ نے عمارت استعمال کرتے ہوئے ان خطرات کو کیوں نظرانداز کیا؟ کیا بچوں کو ایسے کمروں میں بٹھانے سے پہلے عمارت کی مضبوطی اور چھت کی حالت کا جائزہ لیا گیا تھا؟ کیا کسی مستند انجینئر سے عمارت کی موزونیت کی تصدیق حاصل کی گئی تھی؟
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ عمارت باہر سے خطرناک دکھائی نہیں دیتی تھی، اس لیے پلاننگ کنٹرول انسپکٹر نے اس کی رپورٹ نہیں کی۔ یہ وضاحت اپنی جگہ، لیکن اس سے ایک بنیادی سوال ختم نہیں ہوتا: کیا انسانی جانوں کے تحفظ کی ذمہ داری صرف اس وقت شروع ہوتی ہے جب کوئی عمارت باہر سے خطرناک دکھائی دینے لگے؟ کیا کسی عمارت کی ظاہری حالت اس کے اندر موجود کمزور چھت، ناقص تعمیر یا غیر محفوظ ساخت کی ضمانت بن سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ عمارتوں کی مضبوطی کا تعین ظاہری شکل سے نہیں بلکہ فنی معائنے، تعمیراتی معیار اور حفاظتی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق اسکولوں کی رجسٹریشن، نگرانی اور مانیٹرنگ کی ذمہ داری پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی ہے۔ متعلقہ ادارے صرف ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کی نشاندہی کرکے اپنی جان نہ چھڑائیں، بلکہ یہ واضح کیا جائے کہ اس عمارت کو اسکول کے طور پر استعمال کرنے، اس کی نگرانی کرنے اور بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے معاملے میں کس ادارے نے کیا کردار ادا کیا اور کہاں کوتاہی ہوئی۔
یہ لمحہ فکریہ ہے! ہم کس قسم کا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں جہاں والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے حصول کے لیے اسکول بھیجتے ہیں، مگر ان کی سلامتی کے بارے میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرتے ہیں؟ اسکول تو وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں بچے خود کو محفوظ سمجھیں، جہاں ان کے ذہن علم کی روشنی سے منور ہوں، جہاں ان کے خواب پروان چڑھیں اور جہاں ان کی شخصیت سنوارنے کا عمل جاری رہے۔ اگر وہی درس گاہ ان کے لیے جان لیوا خطرہ بن جائے تو اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے؟
ہر بچے کے پیچھے ایک خاندان کی امیدیں ہوتی ہیں۔ کوئی بچہ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھ رہا ہوتا ہے، کوئی انجینئر، کوئی استاد، کوئی سائنس دان اور کوئی اپنے والدین کا سہارا بننے کی تمنا رکھتا ہے۔ والدین اپنی محدود آمدنی میں سے فیس ادا کرتے ہیں، کتابیں خریدتے ہیں، یونیفارم دلواتے ہیں اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے ہر ممکن قربانی دیتے ہیں۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ ان کے بچے جس عمارت میں تعلیم حاصل کریں، وہ محفوظ ہو۔
اس سانحے کے بعد حکومت خیبر پختونخوا، متعلقہ بلدیاتی اداروں اور پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں۔ صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر فنی معائنہ کرایا جائے۔ خصوصاً ان عمارتوں کی جانچ ضروری ہے جو رہائشی مقاصد کے لیے تعمیر ہوئی ہوں اور بعد میں انہیں اسکولوں میں تبدیل کر دیا گیا ہو۔ ہر تعلیمی ادارے کے لیے عمارت کی مضبوطی، چھتوں کی حالت، ہنگامی اخراج کے راستوں اور دیگر بنیادی حفاظتی تقاضوں کی تصدیق لازمی قرار دی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ، اس سانحے کی مکمل تحقیقات کرکے تمام ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور جن افراد یا اداروں کی مجرمانہ غفلت ثابت ہو، انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔ سزا ایسی ہو کہ آئندہ کوئی شخص یا ادارہ محض منافع، لاپروائی یا انتظامی سہولت کی خاطر معصوم بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی جرات نہ کرے۔ کسی بااثر شخصیت، ادارے یا اسکول مالک کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے، ان کی داد رسی کی جائے اور انہیں محض رسمی بیانات یا وقتی امداد کے سہارے نہ چھوڑا جائے۔
یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ حادثے کے بعد بننے والی تحقیقاتی رپورٹ اسی وقت بامعنی ہوگی جب اس کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ماضی میں بھی کئی سانحات کے بعد تحقیقات، اعلانات اور یقین دہانیاں سامنے آتی رہی ہیں، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ان واقعات سے سبق سیکھ کر نظام میں حقیقی تبدیلی لائی جاتی ہے؟
پشاور کے ان معصوم بچوں کی جانیں واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ ان کے والدین کے آنسوؤں کو کسی فیصلے یا معاوضے سے مکمل طور پر خشک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ان کی قربانی کو بے معنی ہونے سے بچانے کا ایک راستہ ضرور ہے: انصاف، احتساب اور عملی اصلاحات۔ ان بچوں کی یاد ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم ایسا نظام قائم کریں جہاں تعلیم کے نام پر بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ عمارتیں صرف اینٹوں، سیمنٹ، لکڑی اور لوہے سے نہیں بنتیں؛ اسکولوں کی دیواروں کے اندر قوم کا مستقبل سانس لیتا ہے۔ جب ان دیواروں کی مضبوطی پر سمجھوتا کیا جاتا ہے تو درحقیقت بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالا جاتا ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ غفلت کے ہر دروازے کو بند کیا جائے، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور تعلیمی اداروں کی حفاظت کو اولین ترجیح بنایا جائے۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ پشاور میں اسکول کی چھت کیوں گری، بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس سانحے کے بعد ہمارا نظام جاگے گا؟ کیا ہم مزید بچوں کی جانیں ضائع ہونے کا انتظار کریں گے یا آج ہی ایسے اقدامات کریں گے جو کل کسی ماں کی گود اجڑنے سے بچا سکیں؟ اگر اس واقعے کے بعد بھی ذمہ داروں کا احتساب نہ ہوا اور غیر محفوظ اسکولوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو یہ غفلت صرف ایک شہر یا ایک ادارے تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ہمارے پورے نظام پر سوال بن کر کھڑی رہے گی۔
ان معصوم بچوں کے خون کا تقاضا ہے کہ انصاف ہو، احتساب ہو اور ایسی مثال قائم کی جائے جو آئندہ کسی کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی ہمت نہ دے۔ کیونکہ بچوں کی زندگیوں کا تحفظ کوئی احسان نہیں، ریاست، انتظامیہ اور تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ملک میں حادثات کی ایک کے بعد دوسری خبر آتی ہے، چند لمحوں کے لیے فضا سوگوار ہوتی ہے، حکمران تعزیت کرتے ہیں، متعلقہ ادارے تحقیقات کا اعلان کرتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں اور پھر زندگی معمول کے مطابق چلنے لگتی ہے۔ مگر جن گھروں کے چراغ بجھ جاتے ہیں، جن...
مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ موجودہ دور میں کسی بھی ملک کی سلامتی صرف اس کی اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران پورے خطے کے امن، تجارت، معیشت اور مذہبی و انسانی مراکز کی سلامتی...
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں افریقہ ایک ایسا خطہ ہے جس کی معاشی اہمیت آنے والے برسوں میں مزید بڑھنے والی ہے۔ دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی معاشی ترجیحات، نئی منڈیاں، وسیع قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے امکانات نے افریقہ کو عالمی معیشت کے اہم مراکز میں شامل کردیا...
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ اقوام متحدہ پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور عالمی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، محض ایک ایرانی سفارت کار کا بیان نہیں بلکہ موجودہ عالمی نظام کے بارے میں اٹھنے والے ایک بڑے سوال کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ آج دنیا کے مختلف...