ایک زمانہ تھا جب پاکستانی ڈرامہ گھر کے تمام افراد کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جاتا تھا۔ دادی اماں سے لے کر گھر کے بچوں تک، سب کی دلچسپی اس میں ہوتی 60 کی دہائی سے پاکستان ٹیلی وڑن نے اپنے سفر کا آغاز کیا اور خوب کیا سارا گھرانا بچے سے لے کر بوڑھے تک نشر ہونے والے نہ صرف ڈرامے بلکہ تمام پروگرامز بڑے شوق سے دیکھتے تھے اور باقاعدہ انتظار کیا جاتا تھا اور ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھنے میں کوئی شرم محسوس نہ کرتے تھے۔ اس وقت کے ڈراموں میں حیا ’تہذیب و تمدن کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کا عنصر بھی واضح تھا اس زمانے میں وسائل کم تھے لیکن کہانی سے لے کر اداکاری‘ ڈائیلاگ کی ادائیگی ’مکالمے سب کا بہت خیال رکھا جاتا تھاکہانی میں گھر کے مسائل ہوتے، رشتوں کی نزاکت ہوتی، معاشرتی رویوں کی عکاسی ہوتی اور مکالموں میں ایسی جان ہوتی کہ ڈرامہ ختم ہونے کے بعد بھی اسکیکردار ذہن میں رہتے۔ آج بھی ہمارے ہاں اچھے ڈرامے بنتے ہیں، لیکن بعض مقبول ڈراموں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ڈرامہ نگار نے کہانی لکھتے ہوئے قلم کے ساتھ پستول بھی رکھ لیا ہواب بڑے بڑے چینلز کے بعض ڈراموں میں شاندار بنگلے، بھاری بھرکم سکیورٹی، مسلح محافظ، قیمتی گاڑیاں، شراب نوشی، دشمنیاں اور ایکشن فلموں جیسے مناظر نظر آتے ہیں ہیرو کی انٹری ایسی ہوتی ہے جیسے ابھی کسی انڈر ورلڈ سلطنت کا بادشاہ اپنے دشمنوں کا صفایا کرنے آیا ہو مکالمہ کم، رعب زیادہ؛ دلیل کم، دھمکی زیادہ اور مسئلے کا حل بات چیت سے نہیں بلکہ بندوق کی نال سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ادا کار فیروز خان اوردانش تیموری جیسے اداکاروں کے بعض ڈراموں میں بھی ایکشن ساتھ رومانس فلموں والا انداز نمایاں نظر آتاہیکرداروں کے پاس دولت، طاقت،اسلحہ اورمحافظوں کی کمی نہیں، البتہ کبھی کبھی یہ سمجھنے کے لیے کافی غور کرنا پڑتا ہے کہ آخر کہانی ہے کس بارے میں ایسا لگتا ہے کہ فلمی دنیا کے شاہ رخ خان، اکشے کمار اور سلمان خان کے لیے پاکستانی ڈراموں نے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ایکشن فلم کا ٹکٹ خریدنا پڑتا تھا،اب بڑے مشہور چینلز کے درمیان مقابلہ چل رہا ہے بے تکی کہانی ڈرامے کی ہیروئین کے میک اپ زدہ چہرے قیمتی لباس پر سارا زور ہوتا ہے دانش تیمور اور فیروز خان ان کے حالیہ برسوں کے بیشتر ڈراموں (جیسے کیسی تیری خودغرضی خدا اور محبت ۳، اختیار) میں ہیرو کو ایک ضدی، امیر، بااثر اور غصیلا عاشق دکھایا جاتا ہے جو قانون اور معاشرے سے بالاتر نظر آتا ہے۔اسلحے اور طاقت کا گلیمرہیرو کا گنز (اسلحہ) لے کر چلنا، سیکیورٹی گارڈز کے جھرمٹ میں رہنا اور مار دھاڑ کرنا اب ڈراموں میں عام کر دیا گیا ہے، تاکہ نوجوان نسل کو متوجہ کیا جا سکے۔جتنے تفریحی چینلز کی بھرمار ہے وہیں لاتعداد ڈرامے بن رہے ہیں ڈرامہ انڈسٹری میں ریٹٹنگ کا مقابلہ ہے۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہمارے معاشرے کی حقیقی تصویر ہے؟ کیا ہماری تہذیب، ثقافت اور خاندانی زندگی کی نمائندگی صرف دولت، اسلحے، انتقام اور شراب نوشی سے ہوتی ہے؟ ہمارے معاشرے میں محبت، قربانی، برداشت، رشتوں کی پاسداری، تعلیم، اخلاقیات اور عام آدمی کے مسائل بھی تو موجود ہیں۔ پھر ان کہانیوں میں رشتوں کے تقدس کو پامال ہوتا بھی دکھایا جاتا ہے کبھی یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا یہ واقعی ایک اسلامی معاشرے کی عکاسی کر رہے ہیں یا کسی ایسی فلم کی کہانی ہے جس میں ہیرو کو قانون، اخلاق اور دوسروں کی مرضی سے بالاتر سمجھا جاتا ہے؟مثلاً ڈرامہ نشتر میں دانش تیموری کا کردار ایک انتہائی دولت مند اور بااثر شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ پروفیسر کی بیٹی اس کے رویے پر تنقید کرتی ہے تو صاحب بہادر اسے اپنی توہین سمجھ لیتے ہیں۔ لڑکی معافی بھی مانگ لیتی ہے، مگر انا کا محل اتنا بلند ہے کہ معافی کی آواز وہاں تک پہنچ ہی نہیں پاتی اب صاحب کو معافی نہیں، بدلہ چاہیے۔چنانچہ جب لڑکی کی شادی ہو رہی ہوتی ہے تو موصوف اسلحے کے زور پر وہاں پہنچ کر زبردستی اس کے ساتھ نکاح کر لیتیہیں گویا شادی ہال کوئی عدالتی کمرہ نہیں، جہاں قانون کے مطابق فیصلے ہوں، بلکہ ایکشن فلم کا سیٹ ہے جہاں جس کے پاس زیادہ اسلحہ ہو، فیصلہ بھی اسی کا ہو!کیا کسی کی توہین کا بدلہ اس کی زندگی پر قبضہ کرکے لیا جا سکتا ہے؟ کیا ایک عورت کی مرضی، اس کی عزت اور اس کے مستقبل کی کوئی اہمیت نہیں؟ اور کیا نکاح جیسے مقدس رشتے کو طاقت، دھونس اور انتقام کا ذریعہ بنا کر پیش کرنا درست ہے؟اس طرح کے ڈرامے معاشرتی بگاڑ کا باعث ہیں کم عمر لڑکے لڑکیوں پر برے اثرات پڑ رہے ہیں آج کل ریٹنگ کی ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ بعض ڈراموں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کہانی لکھنے سے پہلے یہ طے کیا جاتا ہے کہ ناظرین کو حیران، پریشان اور سنسنی خیز مناظر سے کس طرح باندھ کر رکھا جائے۔ اچھے مکالمے، مضبوط کردار اور بامقصد کہانی شاید اب اتنے ضروری نہیں رہے، جتنے ضروری دھماکے دار مناظر، غیر معمولی امارت، دشمنیاں، انتقام، اسلحہ اور محبت کے نام پر رشتوں کی تزلیل یوں محسوس ہوتا ہے کہ چینلز کے درمیان مقابلہ اس بات پر نہیں کہ کون بہترین ڈرامہ پیش کرتا ہے، بلکہ اس پر ہے کہ کون ناظرین کو زیادہ چونکا سکتا ہے۔ ایک چینل کا ہیرو اگر دولت مند ہے تو دوسرے کا ہیرو شاید ارب پتی ہو؛ ایک کے پاس محافظ ہیں اور اگر ایک ڈرامے میں دشمنی ہے تو دوسرے میں ایسی دشمنی کہ خاندانی جھگڑا بھی کسی بین الاقوامی جنگ کا منظر پیش کرنے لگیریٹنگ کی اس جنگ میں کہیں ایسا نہ ہو کہ ڈرامہ تو کامیاب ہو جائے، لیکن معاشرتی اقدار ہار جائیں چینلز کو یہ سمجھنا چاہیے کہ زیادہ ناظرین حاصل کرنا اور اچھا مواد پیش کرنا دو الگ باتیں نہیں ہونی چاہییں۔ سنسنی سے وقتی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن معیاری کہانی ہی دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ نشتر ، ہمراہی محبت ،خفا وغیرہ وغیرہ اتنی فضول کہانیاں سوائے گلیمر کے کچھ نہیں ، حالیہ ڈراموں میں ایسے قربت کے مناظر رومانس کے سین بھی جنہیں دیکھ کر فیملی کے ساتھ بیٹھے ناظرین کو کبھی کبھی ٹیلی ویڑن کی طرف دیکھنے کے بجائے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا پڑتا ہے کہ اب ریموٹ کس کے ہاتھ میں ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مناظر ڈرامے کے ہیرو ہیروئن کے کیا کہانی کی ضرورت ہیں، یا محض ناظرین کی توجہ حاصل کرنے اور ریٹنگ بڑھانے کا ذریعہ؟ کیا ہر رشتے کو چاہے میاں بیوی کے ہوں ،کیمرے کے سامنے اس حد تک کھول کر پیش کرنا ضروری ہے کہ گھر کے تمام افراد کے ساتھ بیٹھ کر ڈرامہ دیکھنا مشکل ہو جائے؟پہلے محبت دکھانے کے لیے لفظ کافی ہوتے تھے، اب بعض ڈراموں میں لگتا ہے کہ لفظوں کو چھٹی پر بھیج دیا گیا اظہار تہذیب اورشائستگی کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا تھا۔ ہمارے ڈرامہ نگاروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید ہونا اور اپنی تہذیبی شناخت کھو دینا دو مختلف باتیں ہیں ،دنیا بھر سے اچھے فن، جدید تکنیک اور بہتر کہانی سنانے کے طریقے ضرور سیکھے جائیں مگر اپنی معاشرتی اقدار، شائستگی اور ناظرین کی مختلف عمروں کے تقاضوں کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے کیا یہ سب ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جو ہمارے ڈراموں میں دکھایا جا رہا ہے۔ جو ڈرامہ مشہور ہوتا ہے اس کے ویو زیادہ ہوجاتے ہیں جیساکہ ڈرامہ آپ کی عزت اور اب در نجات کو کافی توجہ مل رہی ہے جدیدیت نئے موضوع کے چکر کا سارا کھیل ہے کہ لوگ تبدیلی کو پسند کر رہے ہیں اور
یہ رحجان معاشرے کو بگاڑ رہا ہے ان کہانیوں سے ہم اپنی نوجوان نسل کو کیا سکھا رہے ہیں پاکستانیوں کو بحیثیت قوم اس وقت اچھے ماڈل کی ضرورت ہے،ڈرامہ رائٹر پروڈیوسر، قابلِ تقلید کردار دکھاکرمعاشریکوسدھارنے میں اپنا حصہ
ڈال سکتے ہیں مگر زیادہ پیسہ، نام ،ریٹنگ کمانے کی دھن میں چینلز ساری حدیں پار کر رہے ہیں خوابوں کے محل اور حقیقت کی زندگی میں بہت فرق ہے جب ڈرامے معاشرے کو سبق دینے کے بجائے خواب بیچنے لگیں جہاں عام لڑکی کی سوچ یہ بن جائے کہ کاش کوئی امیر زادہ مل جائے جس کی مہنگی ترین گاڑیاں اور شاندار گھر عیش و آرام ڈرامے کی ہیروئن اور ہیرو اس کے ذہن پر سوار ہوں تو پھر اپنے خواب پانے کے لئے وہ کسی حد تک جا سکتی ہے۔ایک وقت تھا جب ڈرامے تعلیم، دیانت داری، والدین کے احترام، خواتین کے حقوق، دیہی زندگی، سماجی ناانصافی اور قومی مسائل جیسے موضوعات کو اجاگر کرتے تھے ان ڈراموں کے کردار برسوں بعد بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رہتے ہیں کیونکہ ان میں حقیقت اور مقصدیت ہوتی تھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آج تمام ڈرامے یکساں ہیں اب بھی بعض معیاری اور فکر انگیز تخلیقات سامنے آتی ہیں، لیکن مجموعی رجحان تفریح کومقصدیت پر ترجیح دیتا دکھائی دیتا ہے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں اکثر وہ موضوعات منتخب کیے جاتے ہیں جو فوری توجہ حاصل کر سکیں، ہمارے ملک میں پہلے ہی ناخواندگی کی شرح زیادہ ہے ان لوگوں کی تفریحی ٹی وی ڈرامے دیکھنا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈرامہ نگار، پروڈیوسرز اور نشریاتی ادارے تفریح اور اصلاح کے درمیان توازن پیدا کریں ناظرین کو ایسی کہانیاں بھی درکار ہیں جو امید، محنت، برداشت، علم، خاندانی محبت اور مثبت اقدار کو فروغ دیں۔معاشرے میں بے شمار ایسے موضوعات موجود ہیں جن پر معیاری ڈرامے بنائے جا سکتے ہیں، جیسے نوجوانوں کے مسائل، تعلیم، ماحولیات، منشیات سے بچاؤ، بزرگوں کی تنہائی اور سماجی خدمت۔ڈرامہ صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طاقتور سماجی ادارہ ہیکیونکہ تمام بڑے چینلز ایک ہی جیسے فارمولے پر کام کر رہے ہیں، اس لیے ناظرین کے پاس ٹی وی پر دیکھنے کے لیے کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں بچا۔۔فیملیز مجبوراً وہی مواد دیکھتی ہیں جو اسکرین پر چل رہا ہوتا ہے، جو معاشرے کو ہضم کرارہے ہیں کہ وہ عادی ہوجائیں
نجی چینلز تجارتی ادارے ہیں ،ان کی آمدنی کا دارومدار ریٹنگ ، ایڈز پر ہوتا ہے۔ جب تک ناظرین ایسی سنسنی خیز اور منفی کہانیوں کو زیادہ دیکھیں گے، ریٹنگ کے اس نظام کو تبدیل نہیں کیا جاتا یا پیمرا ادارے کو ایک خود مختار اور سخت گیر ادارہ نہیں بنایا جاتا، تب تک چینلز اسی طرح تجارتی فائدے کے لیے ہماری تہذیب ہماری اسلامی تعلیمات اور خاندانی نظام کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔۔ ہمیں ایسے ڈرامہ انڈسٹری میں ایسے ڈراموں کو پرموٹ کرنا ہوگا جو نہ صرف تفریح مہیاکریں بلکہ عوام الناس کو ایجوکیٹ بھی کریں تاکہ پاکستانی معاشرے کا شیرازہ مثبت انداز سے ثقافت کی اقدار کے ساتھ جڑا رہے۔
غیر ممالک میں رہتے ہوئے ہم اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ یہاں پڑوسی کو پڑوسی کی خبر نہیں، کوئی بیمار ہو جائے تو ضروری نہیں کہ ساتھ والے گھر کو بھی معلوم ہو، نہ رشتے داروں کی آمدورفت، نہ بلاواسطہ میل جول، نہ وہ اپنائیت جس کے قصے ہم اپنے وطن کے حوالے سے...
پولیس کا محکمہ کسی بھی معاشرے میں امن و امان کی علامت اور شہریوں کے تحفظ کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پولیس کی اصل کارکردگی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شہری مصیبت میں اسے آواز دیتا ہے۔ ہم کینیڈا میں رہتے ہوئے جب پولیس کی پھرتی دیکھتے ہیں تو کبھی کبھی...
بد اچھا بدنام برا نام بڑا درشن چھوٹے اس طرح کے کئی محاورے اور مثالیں نام پر پائی جاتی ہیں ۔ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا،آجکل فی زمانہ نام میں کچھ نہیں رکھا دیکھا جائے تو اگر نام کے ساتھ بدلگ جائے تو اس کے لئے دولت ،عزت ،شہرت کے دروازے کھل...
کینیڈا کے موسم کا کوئی بھروسا نہیں کہتے ہیں یہاں سال کے چھ موسم ہوتے ہیں، جن میں تین وہ ہیں جن کا کوئی بھروسا نہیں! یہاں موسم کی پیش گوئی دیکھ کر گھر سے نکلنا بھی ایک طرح کا امتحان ہے۔ صبح سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو تو آدمی سوچتا...